صحیح بخاری حدیث ۳۶۹۳ - ابوبکر، عمر اور عثمان کو جنت کی بشارت
جنت کی بشارت کی حدیث: ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم
صحیح بخاری : ۳۶۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۹۳
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " , فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ فَبَشَّرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " , فَفَتَحْتُ لَهُ فَإِذَا هُوَ عُمَرُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَحَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ ، فَقَالَ لِي : " افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تُصِيبُهُ " , فَإِذَا عُثْمَانُ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَحَمِدَ اللَّهَ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
میں مدینہ کے ایک باغ (بئراریس) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ ایک صاحب نے آ کر دروازہ کھلوایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو، میں نے دروازہ کھولا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے کے مطابق جنت کی خوشخبری سنائی تو انہوں نے اس پر اللہ کی حمد کی، پھر ایک اور صاحب آئے اور دروازہ کھلوایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بھی یہی فرمایا کہ دروازہ ان کے لیے کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو، میں نے دروازہ کھولا تو عمر رضی اللہ عنہ تھے، انہیں بھی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع سنائی تو انہوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔پھر ایک تیسرے اور صاحب نے دروازہ کھلوایا۔ ان کے لیے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو ان مصائب اور آزمائشوں کے بعد جن سے انہیں (دنیا میں) واسطہ پڑے گا۔ وہ عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔ جب میں نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی اطلاع دی تو انہوں نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی مدد کرنے والا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۶۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں مدینہ کے ایک باغ کا واقعہ ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک شخص نے دروازہ کھلوایا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی بشارت دے دو۔ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے اللہ کی حمد کی۔ پھر دوسرا شخص آیا، آپ صلى الله عليه وسلم نے پھر یہی فرمایا۔ وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے بھی اللہ کی حمد کی۔ پھر تیسرا شخص آیا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے جنت کی بشارت دو، مگر ان مصائب کے بعد جو اسے پیش آئیں گے۔ وہ عثمان رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے اللہ کی حمد کی اور کہا کہ اللہ ہی مدد کرنے والا ہے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع بشارت جنت اور تین خلفاء کی فضیلت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو جنت کی خوشخبری دی گئی۔
- خوشخبری سن کر اللہ کی حمد کرنا صحابہ کا انداز تھا۔
- عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے جنت کے ساتھ آزمائش کا ذکر بھی آیا۔
- آزمائش کے وقت اللہ سے مدد مانگنا مؤمن کا سہارا ہے۔
