صحیح بخاری حدیث ۳۶۹۵ - باغ میں جنت کی بشارت اور آزمائش کا ذکر

باغ والی حدیث: ابوبکر، عمر اور عثمان کو جنت کی خوشخبری

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۶۹۵

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَأَمَرَنِي بِحِفْظِ بَابِ الْحَائِطِ , فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " , فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ " , فَإِذَا عُمَرُ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ يَسْتَأْذِنُ فَسَكَتَ هُنَيْهَةً ، ثُمَّ قَالَ : " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى سَتُصِيبُهُ " , فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ . قَالَ حَمَّادٌ : وَحَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ , وَعَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ , سَمِعَا أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى بِنَحْوِهِ , وَزَادَ فِيهِ عَاصِمٌ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَاعِدًا فِي مَكَانٍ فِيهِ مَاءٌ قَدِ انْكَشَفَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ أَوْ رُكْبَتِهِ فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ غَطَّاهَا " .

ابوموسیٰ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ (بئراریس) کے اندر تشریف لے گئے اور مجھ سے فرمایا کہ میں دروازہ پر پہرہ دیتا رہوں۔ پھر ایک صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔پھر دوسرے ایک اور صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری سنا دو، وہ عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر تیسرے ایک اور صاحب آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے پھر فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور (دنیا میں) ایک آزمائش سے گزرنے کے بعد جنت کی بشارت بھی سنا دو، وہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ہم سے عاصم احول اور علی بن حکم نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان سے سنا اور وہ ابوموسیٰ سے اسی طرح بیان کرتے تھے، لیکن عاصم نے اپنی اس روایت میں یہ زیادہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک ایسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے جس کے اندر پانی تھا اور آپ اپنے دونوں گھٹنے یا ایک گھٹنہ کھولے ہوئے تھے لیکن جب عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو آپ نے اپنے گھٹنے کو چھپا لیا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۶۹۵ کا خلاصہ

اس روایت میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو دروازے پر پہرہ دینے کا حکم دیا۔ پہلے ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، نبی صلى الله عليه وسلم نے اجازت دینے اور جنت کی بشارت سنانے کا حکم دیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے، ان کے لیے بھی یہی فرمایا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا کہ انہیں اجازت دو اور ایک آزمائش کے بعد جنت کی بشارت دو۔ روایت کے آخر میں ایک زائد بات بھی آتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم پانی والی جگہ بیٹھے تھے اور جب عثمان رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے گھٹنے کو ڈھانپ لیا۔ اس حدیث میں بشارت جنت، اجازت کا ادب، اور عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے آزمائش کا ذکر جمع ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اجازت لے کر داخل ہونا صحابہ کے عمل میں موجود تھا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو جنت کی بشارت دی۔
  • عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے جنت کے ساتھ آزمائش کا بھی ذکر آیا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو صحابہ نے باریکی سے نقل کیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں