صحیح بخاری حدیث ۳۷۰۸ - جعفرؓ کی مسکینوں سے محبت
جعفر بن ابی طالبؓ کی سخاوت اور مسکینوں سے حسن سلوک
صحیح بخاری : ۳۷۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۰۸
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دِينَارٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَقُولُونَ : أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَإِنِّي كُنْتُ أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِبَعِ بَطْنِي حَتَّى لَا آكُلُ الْخَمِيرَ ، وَلَا أَلْبَسُ الْحَبِيرَ ، وَلَا يَخْدُمُنِي فُلَانٌ وَلَا فُلَانَةُ وَكُنْتُ أُلْصِقُ بَطْنِي بِالْحَصْبَاءِ مِنَ الْجُوعِ , وَإِنْ كُنْتُ لَأَسْتَقْرِئُ الرَّجُلَ الْآيَةَ هِيَ مَعِي كَيْ يَنْقَلِبَ بِي فَيُطْعِمَنِي وَكَانَ أَخْيَرَ النَّاسِ لِلْمِسْكِينِ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ كَانَ يَنْقَلِبُ بِنَا فَيُطْعِمُنَا مَا كَانَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى إِنْ كَانَ لَيُخْرِجُ إِلَيْنَا الْعُكَّةَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ فَنَشُقُّهَا فَنَلْعَقُ مَا فِيهَا " .
ابوہریرہ روایت:
لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت احادیث بیان کرتا ہے، حالانکہ پیٹ بھرنے کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر وقت رہتا تھا، میں خمیری روٹی نہ کھاتا اور نہ عمدہ لباس پہنتا تھا (یعنی میرا وقت علم کے سوا کسی دوسری چیز کے حاصل کرنے میں نہ جاتا) اور نہ میری خدمت کے لیے کوئی فلاں یا فلانی تھی بلکہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ سے پتھر باندھ لیا کرتا۔بعض وقت میں کسی کو کوئی آیت اس لیے پڑھ کر اس کا مطلب پوچھتا تھا کہ وہ اپنے گھر لے جا کر مجھے کھانا کھلا دے، حالانکہ مجھے اس آیت کا مطلب معلوم ہوتا تھا، مسکینوں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرنے والے جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، ہمیں اپنے گھر لے جاتے اور جو کچھ بھی گھر میں موجود ہوتا وہ ہم کو کھلاتے۔ بعض اوقات تو ایسا ہوتا کہ صرف شہد یا گھی کی کپی ہی نکال کر لاتے اور اسے ہم پھاڑ کر اس میں جو کچھ ہوتا اسے ہی چاٹ لیتے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع جعفر بن ابی طالبؓ کی سخاوت اور مسکینوں سے محبت ہے۔ ابو ہریرہؓ بتاتے ہیں کہ لوگ کہتے تھے وہ بہت احادیث بیان کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ پیٹ بھرنے کے بعد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کی زندگی میں سادگی، بھوک اور علم کی طلب صاف دکھائی دیتی ہے۔ وہ کبھی بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھتے اور کبھی کسی سے آیت کا مطلب پوچھتے تاکہ وہ انہیں اپنے گھر لے جا کر کھانا کھلا دے، حالانکہ مطلب انہیں معلوم ہوتا تھا۔ پھر ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ مسکینوں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرنے والے جعفرؓ تھے۔ وہ گھر لے جاتے اور جو کچھ ملتا کھلاتے، حتیٰ کہ خالی کپی میں بچی ہوئی چیز بھی دے دیتے۔ یہ حدیث سخاوت، علم کی محبت، اور غریبوں کے ساتھ نرم دل رویے کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علم حاصل کرنے کے لیے ابو ہریرہؓ نے بڑی مشقت برداشت کی۔
- مسکین کو گھر لے جا کر جو موجود ہو کھلا دینا بھی بڑی نیکی ہے۔
- جعفرؓ کی سخاوت دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ عملی خدمت کی صورت میں تھی۔
- کسی عالم یا راوی کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے اس کی حالت سمجھنی چاہیے۔
