صحیح بخاری حدیث ۳۷۰۹ - ذوالجناحین کے بیٹے کو سلام
ذوالجناحین حدیث: جعفرؓ کے گھرانے کی عزت
صحیح بخاری : ۳۷۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۰۹
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ إِذَا سَلَّمَ عَلَى ابْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ ذِي الْجَنَاحَيْنِ " .
شعبی روایت:
جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جعفر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو سلام کرتے تو یوں کہا کرتے «السلام عليك يا ابن ذي الجناحين.» اے دو پروں والے بزرگ کے صاحبزادے تم پر سلام ہو۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا حدیث میں جو «جناحين.» کا لفظ ہے اس سے مراد دو گوشے (کونے) ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کی فضیلت اور ان کے گھرانے کا احترام ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ جب عبداللہ بن عمرؓ جعفرؓ کے بیٹے کو سلام کرتے تو کہتے: اے دو پروں والے بزرگ کے صاحبزادے، تم پر سلام ہو۔ اس جملے میں محبت بھی ہے اور عزت بھی۔ یہاں ذوالجناحین کا لفظ حضرت جعفرؓ کے لیے استعمال ہوا ہے، اور امام بخاریؒ نے جناحین کے لفظ کی وضاحت بھی نقل کی ہے۔ اس روایت میں کوئی لمبی نصیحت نہیں، مگر صحابہ کا انداز بہت واضح ہے۔ وہ نیک لوگوں کے بچوں کو بھی عزت دیتے تھے اور ان کے والد کی خوبی کو یاد رکھتے تھے۔ ذوالجناحین حدیث سرچ کرنے والے عام طور پر حضرت جعفرؓ کی فضیلت اور ان کے لقب کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھے نسب اور نیک والد کی یاد کو ادب سے ذکر کرنا جائز اور اچھا رویہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک لوگوں کے گھر والوں سے عزت اور محبت کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔
- ابن عمرؓ حضرت جعفرؓ کے بیٹے کو احترام بھرے لقب سے سلام کرتے تھے۔
- سلام میں اچھے الفاظ اور محبت بھرا انداز اختیار کرنا پسندیدہ رویہ ہے۔
- صحابہ کرام اپنے ساتھیوں کی خوبیوں کو بعد میں بھی یاد رکھتے تھے۔
