صحیح بخاری حدیث ۳۷۱۰ - عباسؓ کے ذریعے بارش کی دعا
بارش کی دعا حدیث: حضرت عباسؓ کے وسیلے سے استسقاء
صحیح بخاری : ۳۷۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۱۰
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِينَا , وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا ، قَالَ : فَيُسْقَوْنَ " .
انس روایت:
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قحط کے زمانے میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھا کر بارش کی دعا کراتے اور کہتے کہ اے اللہ پہلے ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش کی دعا کراتے تھے تو ہمیں سیرابی عطا کرتا تھا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کے ذریعہ بارش کی دعا کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں سیرابی عطا فرما۔ راوی نے بیان کیا کہ اس کے بعد خوب بارش ہوئی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع استسقاء یعنی بارش کی دعا ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ جب قحط پڑتا تو عمر بن خطابؓ عباس بن عبدالمطلبؓ کو آگے کر کے بارش کی دعا کرتے۔ وہ کہتے: اے اللہ! پہلے ہم اپنے نبی صلى الله عليه وسلم کے ذریعے تجھ سے بارش مانگتے تھے تو تو ہمیں پانی دیتا تھا، اب ہم اپنے نبی کے چچا کے ذریعے دعا کرتے ہیں، پس ہمیں سیراب فرما۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر بارش ہو جاتی۔ اس حدیث میں حضرت عباسؓ کی فضیلت، عمرؓ کا دینی فہم، اور دعا کی عاجزی تینوں باتیں ملتی ہیں۔ بارش کی دعا حدیث کے طور پر یہ روایت بہت معروف ہے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ قحط کے وقت مسلمان اللہ ہی سے مانگتے ہیں، اور نیک و محترم شخص کو دعا کے لیے آگے کرتے ہیں۔ متن میں جو بات آئی ہے اسی حد تک رہتے ہوئے یہ روایت ہمیں دعا، عاجزی اور اہل بیت کے احترام کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قحط اور مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔
- عمرؓ نے عباسؓ کو دعا کے لیے آگے کیا، جو ان کے مقام کی نشانی ہے۔
- بارش، رزق اور آسانی اللہ ہی کے حکم سے ملتی ہے۔
- دعا میں عاجزی اور اللہ کی طرف رجوع بنیادی چیز ہے۔
