صحیح بخاری حدیث ۳۷۱۵ - فاطمہؓ کا رونا اور ہنسنا
فاطمہؓ کا رونا اور ہنسنا: نبی صلى الله عليه وسلم کی سرگوشی والی روایت
صحیح بخاری : ۳۷۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۱۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَكْوَاهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهَا فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَبَكَتْ ، ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا فَضَحِكَتْ ، قَالَتْ : فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے اس مرض کے موقع پر بلایا جس میں آپ کی وفات ہوئی، پھر آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور آہستہ سے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع حضرت فاطمہؓ کی فضیلت اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے ان کی قربت ہے۔ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے مرض وفات میں اپنی صاحبزادی فاطمہؓ کو بلایا اور آہستہ سے کچھ فرمایا، تو وہ رونے لگیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے دوبارہ انہیں بلایا اور سرگوشی میں کچھ فرمایا، تو وہ ہنسنے لگیں۔ اس حصے میں ابھی سرگوشی کی تفصیل نہیں بتائی گئی، صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ ایک بات پر رونا آیا اور دوسری بات پر خوشی ہوئی۔ فاطمہ کا رونا اور ہنسنا حدیث سرچ کرنے والے عموماً اسی واقعے کی پوری تفصیل جاننا چاہتے ہیں، جو اگلی روایت میں آتی ہے۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ نبی صلى الله عليه وسلم کے بہت قریب تھیں، اور آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی زندگی کے آخری مرض میں بھی ان سے خاص بات کی۔ یہ قربت اور محبت اہل بیت کے مقام کو ظاہر کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے حضرت فاطمہؓ کو اپنے آخری مرض میں خاص طور پر بلایا۔
- حضرت فاطمہؓ کا رونا اور ہنسنا نبی صلى الله عليه وسلم کی سرگوشی سے متعلق تھا۔
- حدیث کے جس حصے میں تفصیل نہ ہو، وہاں اندازے سے بات نہیں بڑھانی چاہیے۔
- اہل بیت کے ساتھ نبی صلى الله عليه وسلم کی محبت بہت نمایاں تھی۔
