صحیح بخاری حدیث ۳۷۱۸ - زبیرؓ تم میں بہتر ہیں
زبیرؓ تم میں بہتر ہیں: عثمانؓ کا تین بار فرمانا
صحیح بخاری : ۳۷۱۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۱۸
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، أَخْبَرَنِي أَبِي , سَمِعْتُ مَرْوَانَ ، كُنْتُ عِنْدَ عُثْمَانَ أَتَاهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : اسْتَخْلِفْ ، قَالَ : وَقِيلَ ذَاكَ ، قَالَ : نَعَمْ الزُّبَيْرُ ، قَالَ : " أَمَا وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ خَيْرُكُمْ ثَلَاثًا " .
مروان روایت:
میں عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ اتنے میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ کسی کو آپ اپنا خلیفہ بنا دیجئیے،۔ آپ نے دریافت فرمایا کیا اس کی خواہش کی جا رہی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ جی ہاں، زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف لوگوں کا رجحان ہے، آپ نے اس پر فرمایا ٹھیک ہے، تم کو بھی معلوم ہے کہ وہ تم میں بہتر ہیں، آپ نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۱۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع حضرت زبیرؓ کی فضیلت ہے۔ مروان بیان کرتے ہیں کہ وہ عثمانؓ کے پاس موجود تھے۔ ایک شخص آیا اور کہا کہ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیجیے۔ عثمانؓ نے پوچھا کہ کیا یہ بات کہی جا رہی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، زبیرؓ کی طرف لوگوں کا رجحان ہے۔ اس پر عثمانؓ نے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ وہ تم میں بہتر ہیں، اور یہ بات تین مرتبہ دہرائی۔ اس روایت میں زبیر بن عوامؓ کے مقام کو عثمانؓ کی گواہی سے سمجھایا گیا ہے۔ یہاں الفاظ مختصر ہیں مگر زور بہت واضح ہے، کیونکہ ایک بات کو تین بار کہنا اس کی اہمیت ظاہر کرتا ہے۔ زبیرؓ کے فضائل کے بارے میں یہ حدیث بتاتی ہے کہ صحابہ کے درمیان باہمی عزت اور ایک دوسرے کی خوبیوں کا اعتراف موجود تھا۔ اس حدیث سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ کسی کے مقام کو ماننا انصاف اور سچائی کا حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عثمانؓ نے زبیرؓ کی فضیلت کو تین بار بیان کیا۔
- صحابہ کرام ایک دوسرے کی خوبیوں کو چھپاتے نہیں تھے۔
- اہم معاملے میں لوگوں کے رجحان کو پوچھا گیا۔
- کسی نیک آدمی کے بارے میں سچائی سے گواہی دینا اچھا عمل ہے۔
