صحیح بخاری حدیث ۳۷۲۰ - زبیرؓ کی جنگ احزاب میں خدمت
جنگ احزاب میں زبیرؓ کی شجاعت اور خبر رسانی
صحیح بخاری : ۳۷۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۲۰
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : كُنْتُ يَوْمَ الْأَحْزَابِ جُعِلْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي النِّسَاءِ فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِالزُّبَيْرِ عَلَى فَرَسِهِ يَخْتَلِفُ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَجَعْتُ ، قُلْتُ : يَا أَبَتِ رَأَيْتُكَ تَخْتَلِفُ ، قَالَ : أَوَ هَلْ رَأَيْتَنِي يَا بُنَيَّ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يَأْتِ بَنِي قُرَيْظَةَ فَيَأْتِينِي بِخَبَرِهِمْ " , فَانْطَلَقْتُ فَلَمَّا رَجَعْتُ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ ، فَقَالَ : فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي " .
عبداللہ بن زبیر روایت:
جنگ احزاب کے موقع پر مجھے اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہما کو عورتوں میں چھوڑ دیا گیا تھا (کیونکہ یہ دونوں حضرات بچے تھے) میں نے اچانک دیکھا کہ زبیر رضی اللہ عنہ (آپ کے والد) اپنے گھوڑے پر سوار بنی قریظہ (یہودیوں کے ایک قبیلہ کی) طرف آ جا رہے ہیں۔ دو یا تین مرتبہ ایسا ہوا، پھر جب میں وہاں سے واپس آیا تو میں نے عرض کیا، ابا جان! میں نے آپ کو کئی مرتبہ آتے جاتے دیکھا۔انہوں نے کہا: بیٹے! کیا واقعی تم نے بھی دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کون ہے جو بنو قریظہ کی طرف جا کر ان کی (نقل و حرکت کے متعلق) اطلاع میرے پاس لا سکے۔ اس پر میں وہاں گیا اور جب میں (خبر لے کر) واپس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (فرط مسرت میں) اپنے والدین کا ایک ساتھ ذکر کر کے فرمایا کہ ”میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۷۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع حضرت زبیرؓ کی شجاعت اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی خدمت ہے۔ عبداللہ بن زبیرؓ بیان کرتے ہیں کہ جنگ احزاب کے دن وہ بچوں کی وجہ سے عورتوں کے ساتھ تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ان کے والد زبیرؓ گھوڑے پر بنو قریظہ کی طرف بار بار آ جا رہے ہیں۔ بعد میں پوچھا تو زبیرؓ نے بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تھا: کون بنو قریظہ کے پاس جا کر ان کی خبر میرے پاس لائے گا؟ زبیرؓ گئے اور خبر لا کر واپس آئے۔ اس پر نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے خوشی سے فرمایا: میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔ زبیرؓ جنگ احزاب حدیث میں بہادری کے ساتھ ساتھ ذمہ داری نبھانے کا سبق بھی ہے۔ یہ کام صرف لڑائی نہیں تھا، بلکہ دشمن کی خبر لانے کی ایک نازک خدمت تھی۔ روایت سے زبیرؓ کے حوصلے، اطاعت اور نبی صلى الله عليه وسلم کے اعتماد کا اندازہ ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زبیرؓ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے حکم پر خطرے والی ذمہ داری قبول کی۔
- خبر رسانی اور حالات معلوم کرنا بھی اہم خدمت ہو سکتی ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے زبیرؓ کی خدمت پر خوشی کا اظہار فرمایا۔
- بہادری کا مطلب صرف حملہ نہیں، ذمہ داری کو پورا کرنا بھی ہے۔
