صحیح بخاری حدیث ۳۷۲۷ - سعد رضی اللہ عنہ کا ابتدائی ایمان

سعد رضی اللہ عنہ اور ابتدائی اسلام کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۲۷

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلَّا فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيهِ وَلَقَدْ مَكَثْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَإِنِّي لَثُلُثُ الْإِسْلَامِ " . تَابَعَهُ أَبُو أُسَامَةَ ,حَدَّثَنَا هَاشِمٌ .

سعد بن ابی وقاص روایت:

جس دن میں اسلام لایا، اسی دن دوسرے (سب سے پہلے اسلام میں داخل ہونے والے حضرات صحابہ) بھی اسلام میں داخل ہوئے ہیں اور میں سات دن تک اسی طور پر رہا کہ میں اسلام کا تیسرا فرد تھا۔ ابن ابی زائدہ کے ساتھ اس حدیث کو ابواسامہ نے بھی روایت کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۷۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے اسلام لانے کے ابتدائی وقت کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جس دن وہ اسلام لائے، اسی دن دوسرے ابتدائی صحابہ بھی اسلام میں داخل ہوئے، اور وہ سات دن تک اس طرح رہے کہ وہ اسلام کے تیسرے فرد تھے۔ یہ روایت ابتدائی اسلام، پہلے مسلمان، اور سعد بن ابی وقاص کی فضیلت کے موضوع پر بہت اہم ہے۔ اس میں کوئی اضافی قصہ بیان نہیں کیا گیا، اس لیے بات اسی حد تک رکھی جاتی ہے کہ اسلام کے آغاز میں ایمان لانے والوں کی تعداد کم تھی اور سعد رضی اللہ عنہ ان اوّلین لوگوں میں شامل تھے۔ اس سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ دین کی ابتدا میں حق قبول کرنا آسان نہیں ہوتا، مگر بعض لوگ سبقت لے جاتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سعد رضی اللہ عنہ ابتدائی ایمان لانے والوں میں شامل تھے۔
  • اسلام کے شروع میں مسلمانوں کی تعداد بہت محدود تھی۔
  • حق قبول کرنے میں سبقت ایک بڑی فضیلت ہے۔
  • ابتدائی زمانے کے صحابہ کی ثابت قدمی ہمارے لیے سبق ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں