صحیح بخاری حدیث ۳۷۴ - تصویروں والے پردے سے نماز میں خلل
تصویروں والا پردہ اور نماز میں توجہ کی حفاظت
صحیح بخاری : ۳۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۴
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ سَتَرَتْ بِهِ جَانِبَ بَيْتِهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمِيطِي عَنَّا قِرَامَكِ هَذَا فَإِنَّهُ لَا تَزَالُ تَصَاوِيرُهُ تَعْرِضُ فِي صَلَاتِي " .
انس روایت:
عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رنگین باریک پردہ تھا جسے انہوں نے اپنے گھر کے ایک طرف پردہ کے لیے لٹکا دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے سے اپنا یہ پردہ ہٹا دو۔ کیونکہ اس پر نقش شدہ تصاویر برابر میری نماز میں خلل انداز ہوتی رہی ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۴ کا خلاصہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رنگین باریک پردہ تھا۔ انہوں نے اسے گھر کے ایک طرف لٹکا دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا یہ پردہ میرے سامنے سے ہٹا دو، کیونکہ اس کی تصویریں میری نماز میں بار بار سامنے آتی رہی ہیں۔ اس حدیث کا پیغام بہت سیدھا ہے کہ نماز میں توجہ کو بچانا چاہیے۔ اگر سامنے کوئی ایسی چیز ہو جو بار بار نظر آئے اور دل کو نماز سے ہٹائے تو اسے ہٹا دینا مناسب ہے۔ اس لیے تصاویر والا پردہ، نماز میں خلل، نماز میں خشوع، اور گھر میں نماز کی جگہ کو سادہ رکھنا اس حدیث کے اہم موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز کی جگہ ایسی ہونی چاہیے جہاں توجہ آسانی سے قائم رہے۔
- تصویروں یا نقشوں والی چیز سامنے ہو تو دھیان بٹ سکتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹانے کا حکم فرمایا۔
- گھر میں نماز کی جگہ کو سادہ رکھنا بہتر سمجھ آتا ہے۔
