صحیح بخاری حدیث ۳۷۵ - ریشم کا لباس اور پرہیزگاری
ریشم کا لباس: نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اسے پرہیزگاروں کے لائق نہ فرمایا
صحیح بخاری : ۳۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : " أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ ، فَلَبِسَهُ فَصَلَّى فِيهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ ، وَقَالَ : لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ " .
عقبہ بن عامر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشم کی قباء تحفہ میں دی گئی۔ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنا اور نماز پڑھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو بڑی تیزی کے ساتھ اسے اتار دیا۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہن کر ناگواری محسوس کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پرہیزگاروں کے لائق نہیں ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۷۵ کا خلاصہ
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی ایک قباء تحفے میں دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا اور نماز پڑھی۔ لیکن نماز سے فارغ ہوتے ہی آپ نے اسے بہت تیزی سے اتار دیا، جیسے اسے پہننا ناگوار ہو۔ پھر فرمایا کہ یہ پرہیزگاروں کے لائق نہیں ہے۔ اس حدیث میں ریشم کا لباس، نماز میں ریشمی قباء، اور پرہیزگاری کا تعلق صاف طور پر سامنے آتا ہے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں ایک تربیت ہے کہ ہر خوبصورت یا قیمتی چیز ضروری نہیں کہ دینی مزاج کے مطابق ہو۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق اس لباس کو متقین کے لیے مناسب نہیں کہا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ریشم کی قباء پہننے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسندیدگی سے اتار دیا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پرہیزگاروں کے لائق نہیں ہے۔
- لباس میں صرف خوبصورتی نہیں، دینی پسند بھی دیکھی جاتی ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو غور سے نقل کیا۔
