صحیح بخاری حدیث ۵۸۳۴ - ریشم اور آخرت کی محرومی
ریشم اور آخرت کی محرومی: مردوں کے لباس پر صاف حکم
صحیح بخاری : ۵۸۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۳۴
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي ذِبْيَانَ خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ " ، وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ ، قَالَتْ مُعَاذَةُ : أَخْبَرَتْنِي أُمُّ عَمْرٍو بِنْتُ عَبْدِ اللَّهِ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، سَمِعَ عُمَرَ ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .
عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا۔ اور ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے یزید نے کہ معاذ نے بیان کیا کہ مجھے ام عمرو بنت عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع لباس ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل ہوا ہے کہ جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا۔ اس روایت میں ایک سے زیادہ سندوں کے ذریعے یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مردوں کے لیے ریشم کے لباس سے بچنے کی ہدایت بہت واضح ہے۔ یہاں حدیث کا جملہ مختصر ہے، مگر اس میں دنیا اور آخرت کا بڑا فرق سامنے آتا ہے۔ آدمی دنیا میں نرمی، شان یا پسند کی وجہ سے ریشم پہنے، لیکن حدیث اسے آخرت کے نقصان سے جوڑتی ہے۔ ریشم پہننے کی حدیث، مردوں کے لیے ریشم، آخرت میں ریشم نہ ملنا، اسلامی لباس اور حضرت عمر کی حدیث اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مسلمان کے لباس میں بھی اطاعت، سادگی اور آخرت کی فکر ہونی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مردوں کے لیے ریشم پہننے سے متعلق واضح تنبیہ بیان ہوئی ہے۔
- دنیا کی پسند کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دینا چاہیے۔
- ایک ہی مضمون کئی راویوں سے نقل ہو تو حکم کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔
- لباس میں نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
