صحیح بخاری حدیث ۵۸۳۲ - دنیا میں ریشم پہننے کا انجام
دنیا میں ریشم پہننے کا انجام: مردوں کے لیے واضح تنبیہ
صحیح بخاری : ۵۸۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۳۲
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ شُعْبَةُ : فَقُلْتُ : أَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ شَدِيدًا : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا فَلَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ "
انس بن مالک روایت:
´ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، شعبہ نے بیان کیا کہ` اس پر میں نے پوچھا کیا یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے؟ عبدالعزیز نے بیان کیا کہ قطعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مرد ریشمی لباس دنیا میں پہنے گا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع لباس ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو مرد دنیا میں ریشمی لباس پہنے گا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا۔ راوی نے خاص طور پر پوچھا کہ کیا یہ روایت نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے ہے؟ جواب میں مضبوطی سے بتایا گیا کہ یہ نبی صلى الله عليه وسلم ہی سے مروی ہے۔ اس حدیث میں مردوں کے لیے ریشم پہننے کی ممانعت بہت صاف الفاظ میں آئی ہے۔ اس میں آخرت کی محرومی کا ذکر بھی ہے، اس لیے یہ معاملہ معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ریشم پہننے کی حدیث، مردوں کے لیے ریشم حرام، دنیا میں ریشم، آخرت میں ریشم اور اسلامی لباس کے احکام اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ دنیا کے آرام یا نرمی کے لیے وہ چیز اختیار نہ کی جائے جس سے آخرت کے فائدے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مرد کے لیے دنیا میں ریشم پہننے پر سخت تنبیہ آئی ہے۔
- حدیث میں آخرت میں ریشم نہ پہننے کا ذکر کیا گیا ہے۔
- دینی حکم کو مضبوطی سے نقل کرنا راویوں کی امانت داری کو دکھاتا ہے۔
- لباس کا انتخاب بھی آخرت کی سوچ کے ساتھ ہونا چاہیے۔
