صحیح بخاری حدیث ۳۸۰ - چٹائی پر نماز اور گھر کی جماعت

چٹائی پر نماز: گھر میں جماعت اور صف بندی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۸۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ لَهُ ، فَأَكَلَ مِنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : قُومُوا فَلِأُصَلِّ لَكُمْ ، قَالَ أَنَسٌ : فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَفَفْتُ وَالْيَتِيمَ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا ، فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ " .

انس بن مالک روایت:

´ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ ان کی نانی ملیکہ نے` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا تیار کر کے کھانے کے لیے بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کے بعد فرمایا کہ آؤ تمہیں نماز پڑھا دوں۔انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنے گھر سے ایک بوریا اٹھایا جو کثرت استعمال سے کالا ہو گیا تھا۔ میں نے اس پر پانی چھڑکا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے (اسی بورئیے پر) کھڑے ہوئے اور میں اور ایک یتیم (کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابوضمیرہ کے لڑکے ضمیرہ) آپ کے پیچھے صف باندھ کر کھڑے ہو گئے اور بوڑھی عورت (انس کی نانی ملیکہ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی اور واپس گھر تشریف لے گئے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۸۰ کا خلاصہ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی نانی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ کو دعوت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا، پھر فرمایا کہ آؤ میں تمہیں نماز پڑھا دوں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے گھر کی ایک چٹائی اٹھائی جو زیادہ استعمال کی وجہ سے کالی ہو چکی تھی، اس پر پانی چھڑکا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ اور ایک یتیم آپ کے پیچھے صف میں کھڑے ہوئے، اور بوڑھی عورت ان کے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی اور واپس تشریف لے گئے۔ اس حدیث میں چٹائی پر نماز، گھر میں جماعت، اور صف بندی کا طریقہ صاف طور پر موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گھر میں بھی جماعت کے ساتھ نماز پڑھائی جا سکتی ہے، جیسا کہ اس واقعہ میں ہوا۔
  • چٹائی پر پانی چھڑک کر اسے نماز کے لیے استعمال کیا گیا۔
  • دو افراد مرد یا لڑکے امام کے پیچھے صف میں کھڑے ہوئے۔
  • بوڑھی عورت مردوں کی صف کے پیچھے کھڑی ہوئیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں