صحیح بخاری حدیث ۳۸۰۸ - عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے قرآن سیکھو
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور قرآن سیکھنے کی رہنمائی
صحیح بخاری : ۳۸۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۸۰۸
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : ذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَقَالَ : ذَاكَ رَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ : مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَبَدَأَ بِهِ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ " .
مسروق روایت:
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی مجلس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا کہ` اس وقت سے ان کی محبت میرے دل میں بیٹھ گئی جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ قرآن چار آدمیوں سے سیکھو، عبداللہ بن مسعود سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کے نام سے ابتداء کی، اور ابوحذیفہ کے غلام سالم سے، معاذ بن جبل سے اور ابی بن کعب سے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۸۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع قرآن کا علم اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے۔ مسروق بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی مجلس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا کہ میں ان سے ہمیشہ محبت رکھوں گا، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ قرآن چار آدمیوں سے لو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ابتدا فرمائی۔ اس حدیث میں قرآن سیکھنے کی حدیث، عبداللہ بن مسعود سے قرآن، سالم مولیٰ ابی حذیفہ، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب جیسے الفاظ اصل معنی کو واضح کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہل علم صحابہ سے محبت دینی علم کی قدر سے جڑی ہوئی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن لینے کے لیے خاص صحابہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔
- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا نام پہلے آنا ان کی خاص فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔
- قرآن کو معتبر اہل علم سے سیکھنا چاہیے۔
