صحیح بخاری حدیث ۳۹ - دین آسان ہے، سختی نہیں
دین آسان ہے: میانہ روی کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ ، فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِينُوا بِالْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ وَشَيْءٍ مِنَ الدُّلْجَةِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیشک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا (اور اس کی سختی نہ چل سکے گی) پس (اس لیے) اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو۔ اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ (کہ اس طرز عمل سے تم کو دارین کے فوائد حاصل ہوں گے) اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں (عبادت سے) مدد حاصل کرو۔ (نماز پنج وقتہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ پابندی سے ادا کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین آسان ہے۔ جو شخص دین میں اپنے اوپر حد سے زیادہ سختی کرے گا، دین اس پر غالب آ جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ درست عمل کرو، قریب رہو، خوش ہو جاؤ، اور صبح، دوپہر، شام اور کچھ رات کے وقت سے مدد لو۔ اس حدیث میں دین آسان ہے، میانہ روی، عبادت میں اعتدال، عمل میں پختگی اور سختی سے بچنا جیسے موضوعات بہت اہم ہیں۔ حدیث کا انداز بہت نرم ہے: انسان دین پر چلتے ہوئے اپنے لیے ایسا راستہ اختیار کرے جو نبوی ہدایت کے مطابق ہو اور اسے تھکا کر توڑ نہ دے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین میں بے جا سختی انسان کے لیے مشکل بن سکتی ہے۔
- عمل میں درستگی اور میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔
- عبادت کے لیے مناسب اوقات سے مدد لینا مفید ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشخبری اور آسانی کا انداز سکھایا۔
