صحیح بخاری حدیث ۴۰ - قبلہ کی تبدیلی اور نماز
قبلہ کی تبدیلی کی حدیث: بیت المقدس سے بیت اللہ تک
صحیح بخاری : ۴۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ نَزَلَ عَلَى أَجْدَادِهِ ، أَوْ قَالَ : أَخْوَالِهِ مِنْ الْأَنْصَارِ ، وَأَنَّهُ صَلَّى قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ ، وَأَنَّهُ صَلَّى أَوَّلَ صَلَاةٍ صَلَّاهَا صَلَاةَ الْعَصْرِ وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ صَلَّى مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ مَسْجِدٍ وَهُمْ رَاكِعُونَ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ بِاللَّهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ مَكَّةَ فَدَارُوا كَمَا هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ ، وَكَانَتْ الْيَهُودُ قَدْ أَعْجَبَهُمْ إِذْ كَانَ يُصَلِّي قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، وَأَهْلُ الْكِتَابِ ، فَلَمَّا وَلَّى وَجْهَهُ قِبَلَ الْبَيْتِ أَنْكَرُوا ذَلِكَ " . قَالَ قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ فِي حَدِيثِهِ هَذَا ، أَنَّهُ مَاتَ عَلَى الْقِبْلَةِ قَبْلَ أَنْ تُحَوَّلَ رِجَالٌ ، وَقُتِلُوا فَلَمْ نَدْرِ مَا نَقُولُ فِيهِمْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143 .
براء بن عازب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو پہلے اپنی نانہال میں اترے، جو انصار تھے۔ اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو (جب بیت اللہ کی طرف نماز پڑھنے کا حکم ہو گیا) تو سب سے پہلی نماز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف پڑھی عصر کی نماز تھی۔وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی نماز پڑھی، پھر آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والوں میں سے ایک آدمی نکلا اور اس کا مسجد (بنی حارثہ) کی طرف گزر ہوا تو وہ لوگ رکوع میں تھے۔ وہ بولا کہ میں اللہ کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ (یہ سن کر) وہ لوگ اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف گھوم گئے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے، یہود اور عیسائی خوش ہوتے تھے مگر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف منہ پھیر لیا تو انہیں یہ امر ناگوار ہوا۔زہیر (ایک راوی) کہتے ہیں کہ ہم سے ابواسحاق نے براء سے یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ قبلہ کی تبدیلی سے پہلے کچھ مسلمان انتقال کر چکے تھے۔ تو ہمیں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ان کی نمازوں کے بارے میں کیا کہیں۔تب اللہ نے یہ آیت نازل کی «وما كان الله ليضيع إيمانكم» (البقرہ: 143)۔
صحیح بخاری حدیث ۴۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں قبلہ کی تبدیلی کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش تھی کہ قبلہ بیت اللہ کی طرف ہو۔ جب حکم آ گیا تو سب سے پہلی نماز عصر کی نماز تھی جو بیت اللہ کی طرف پڑھی گئی۔ ایک صحابی نے دوسرے نمازیوں کو خبر دی تو وہ رکوع ہی کی حالت میں بیت اللہ کی طرف مڑ گئے۔ پھر ان لوگوں کے بارے میں سوال ہوا جو قبلہ بدلنے سے پہلے فوت ہو چکے تھے، تو آیت نازل ہوئی کہ اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کرے گا۔ اس حدیث میں قبلہ کی تبدیلی، نماز، بیت المقدس، بیت اللہ اور ایمان یعنی نماز کا اجر جیسے موضوعات آتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم آنے کے بعد فوراً بیت اللہ کی طرف نماز پڑھی۔
- صحابہ کرام نے صحیح خبر ملتے ہی نماز میں قبلہ بدل لیا۔
- اللہ تعالیٰ نے پہلے پڑھی گئی نمازوں کو ضائع نہ کرنے کی خبر دی۔
- نماز کو اس حدیث میں ایمان کے لفظ سے بھی بیان کیا گیا ہے۔
