صحیح بخاری حدیث ۳۹۱ - مسلمان کی پہچان
مسلمان کی پہچان: نماز، قبلہ اور ذبیحہ
صحیح بخاری : ۳۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۹۱
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمَهْدِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ سِيَاهٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا ، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا ، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا ، فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ ، فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذِمَّتِهِ " .
انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس نے ہماری طرح نماز پڑھی اور ہماری طرح قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارے ذبیحہ کو کھایا تو وہ مسلمان ہے جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی پناہ ہے۔ پس تم اللہ کے ساتھ اس کی دی ہوئی پناہ میں خیانت نہ کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۳۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہماری طرح نماز پڑھی، ہماری طرح قبلہ کی طرف منہ کیا، اور ہمارے ذبیحہ کو کھایا، وہ مسلمان ہے۔ اس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی پناہ ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کی دی ہوئی پناہ میں خیانت نہ کرو۔ اس حدیث کا اصل موضوع مسلمان کی حرمت اور پہچان ہے۔ متن میں تین ظاہری نشانیاں بیان ہوئی ہیں: نماز، قبلہ اور ذبیحہ۔ اس کے بعد اس مسلمان کے لیے اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کی پناہ کا ذکر ہے۔ اس روایت میں دوسروں کے حق کو پامال کرنے سے روکا گیا ہے، خاص طور پر اس شخص کے بارے میں جسے حدیث نے مسلمان قرار دیا ہے۔ اس لیے اسے مسلمان کے حقوق، قبلہ کی طرف نماز، اور امت کی پہچان کے موضوعات میں سمجھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں نماز، قبلہ اور ذبیحہ کو مسلمان کی پہچان کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
- جس شخص کے لیے اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کی پناہ ہو، اس کے حق میں خیانت سے روکا گیا ہے۔
- مسلمان کے ظاہری اسلامی اعمال کا احترام کرنا چاہیے۔
- حدیث میں مسلمان کی حرمت کا واضح پیغام ہے۔
