صحیح بخاری حدیث ۳۹۰ - سجدہ میں بازو کشادہ رکھنا
سجدہ میں بازو کشادہ رکھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۹۰
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ جَعْفَرِ ، عَنْ ابْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ابْنِ بُحَيْنَةَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ " ، وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ نَحْوَهُ .
عبداللہ بن مالک بن بحینہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے بازوؤں کے درمیان اس قدر کشادگی کر دیتے کہ دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی تھی اور لیث نے یوں کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے اسی طرح حدیث بیان کی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۹۰ کا خلاصہ
عبداللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم جب نماز پڑھتے تو اپنے بازوؤں کے درمیان اتنی کشادگی کر دیتے کہ دونوں بغلوں کی سفیدی ظاہر ہونے لگتی۔ اس حدیث کا اصل موضوع نماز کی ہیئت، خاص طور پر سجدہ میں بازوؤں کا انداز ہے۔ روایت مختصر ہے اور اسی ایک عمل کو بیان کرتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نماز میں جسم کی حالت بھی راویوں نے غور سے دیکھی اور آگے بیان کی۔ اس حدیث کو سجدہ کا طریقہ، نماز میں بازو کشادہ رکھنا، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کے انداز کے عنوان سے تلاش کیا جاتا ہے۔ اس کی وضاحت میں یہی کہنا مناسب ہے کہ روایت میں نماز کے دوران بازوؤں کی کشادگی کا ذکر آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نماز میں بازوؤں کے درمیان کشادگی رکھتے تھے۔
- راوی نے اس عمل کو واضح الفاظ میں بیان کیا ہے۔
- نماز کی ہیئت اور انداز بھی حدیث میں محفوظ ہیں۔
- سجدہ کے عمل کو سنجیدگی اور توجہ سے ادا کرنا چاہیے۔
