صحیح بخاری حدیث ۴۰۰ - سواری پر نفل اور فرض نماز

سواری پر نفل نماز اور فرض نماز میں قبلہ رخ ہونا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۰

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ ، فَإِذَا أَرَادَ الْفَرِيضَةَ نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر خواہ اس کا رخ کسی طرف ہو (نفل) نماز پڑھتے تھے لیکن جب فرض نماز پڑھنا چاہتے تو سواری سے اتر جاتے اور قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۰۰ کا خلاصہ

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھتے تھے، خواہ سواری کا رخ کسی بھی طرف ہو۔ لیکن جب فرض نماز پڑھنا چاہتے تو سواری سے اتر جاتے اور قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے۔ اس حدیث کا اصل موضوع سواری پر نفل نماز اور فرض نماز میں قبلہ رخ ہونا ہے۔ روایت میں نفل اور فرض کے درمیان صاف فرق بیان ہوا ہے۔ نفل نماز کے لیے سواری کی سمت کا ذکر آیا ہے، جبکہ فرض نماز کے لیے اترنا اور قبلہ رخ ہونا بیان ہوا ہے۔ اس حدیث کو سفر میں نماز، سواری پر نماز، قبلہ رخ فرض نماز، اور نفل نماز کے موضوع میں بہت تلاش کیا جاتا ہے۔ متن کے مطابق بات یہی ہے کہ فرض نماز کے وقت آپ صلى الله عليه وسلم قبلہ کی طرف رخ کرتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم سواری پر نفل نماز پڑھتے تھے، سواری کا رخ جس طرف بھی ہوتا۔
  • فرض نماز کے لیے آپ صلى الله عليه وسلم سواری سے اتر جاتے تھے۔
  • فرض نماز میں آپ صلى الله عليه وسلم قبلہ کی طرف منہ کرتے تھے۔
  • حدیث میں نفل اور فرض نماز کی عملی صورت الگ الگ بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں