صحیح بخاری حدیث ۴۰۲ - حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تین موافقتیں
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی موافقتِ وحی کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۰۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۲
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ ، فَقُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ؟ فَنَزَلَتْ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، وَآيَةُ الْحِجَابِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمَرْتَ نِسَاءَكَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَإِنَّهُ يُكَلِّمُهُنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ ، وَاجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَيْرَةِ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ لَهُنَّ : عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ ، أَنْ يُبَدِّلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ " ، وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا بِهَذَا .
عمر روایت:
میری تین باتوں میں جو میرے منہ سے نکلا میرے رب نے ویسا ہی حکم فرمایا۔ میں نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ! اگر ہم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا سکتے تو اچھا ہوتا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ” اور تم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو “ دوسری آیت پردہ کے بارے میں ہے۔ میں نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ کاش! آپ اپنی عورتوں کو پردہ کا حکم دیتے، کیونکہ ان سے اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ بات کرتے ہیں۔ اس پر پردہ کی آیت نازل ہوئی اور ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں جوش و خروش میں آپ کی خدمت میں اتفاق کر کے کچھ مطالبات لے کر حاضر ہوئیں۔میں نے ان سے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ پاک تمہیں طلاق دلا دیں اور تمہارے بدلے تم سے بہتر مسلمہ بیویاں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت کریں، تو یہ آیت نازل ہوئی «عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن» اور سعید ابن ابی مریم نے کہا کہ مجھے یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے حمید نے بیان کیا، کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۰۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی تین باتوں کا ذکر کرتے ہیں جن کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نازل ہوا۔ پہلی بات مقام ابراہیم سے متعلق تھی۔ انہوں نے عرض کیا کہ کاش ہم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیں، پھر آیت نازل ہوئی کہ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لو۔ دوسری بات پردہ کے بارے میں تھی۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ اپنی ازواج کو پردہ کا حکم دیں، کیونکہ ہر طرح کے لوگ بات کرتے ہیں، پھر پردہ کی آیت نازل ہوئی۔ تیسری بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے مطالبات کے وقت کہی گئی، پھر اسی مضمون کی آیت نازل ہوئی۔ یہ حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی مضبوطی اور ادب کے ساتھ خیرخواہی کو بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک مشورہ دین میں ادب کے ساتھ ہو تو اس کی قدر ہوتی ہے۔
- مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنانے کا ذکر اس حدیث میں صاف آیا ہے۔
- پردہ کے حکم کا تعلق ازواجِ مطہرات کے معاملے سے بیان ہوا ہے۔
- گھر کے حساس معاملات میں بھی نرمی، خیرخواہی اور اللہ کے حکم کی طرف رجوع اہم ہے۔
