صحیح بخاری حدیث ۴۰۳ - قباء میں نماز کے دوران قبلہ کی تبدیلی
تبدیلی قبلہ کی حدیث: قباء میں نماز کے دوران رخ بدلنا
صحیح بخاری : ۴۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : بَيْنَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ ، فَقَالَ : " إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ فَاسْتَقْبِلُوهَا " ، وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ ، فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
لوگ قباء میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں ایک آنے والا آیا۔ اس نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کل وحی نازل ہوئی ہے اور انہیں کعبہ کی طرف (نماز میں) منہ کرنے کا حکم ہو گیا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے بھی کعبہ کی جانب منہ کر لیے جب کہ اس وقت وہ شام کی جانب منہ کئے ہوئے تھے، اس لیے وہ سب کعبہ کی جانب گھوم گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع تبدیلی قبلہ ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لوگ قباء میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ اسی دوران ایک آنے والے نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رات کو وحی نازل ہوئی ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس وقت نمازیوں کے چہرے شام کی طرف تھے، مگر خبر سنتے ہی وہ نماز کے اندر ہی کعبہ کی طرف گھوم گئے۔ اس حدیث سے اطاعت کا خوبصورت انداز معلوم ہوتا ہے۔ جب معتبر خبر پہنچی کہ نماز کا رخ کعبہ کی طرف ہے، تو صحابہ نے دیر نہیں کی۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ اللہ اور رسول کے حکم کے سامنے مسلمان کا رویہ فوراً ماننے والا ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ رضی اللہ عنہم اللہ کے حکم پر فوراً عمل کرتے تھے۔
- قبلہ کی تبدیلی کی خبر نماز کے دوران ملی تو رخ بدل لیا گیا۔
- معتبر دینی خبر ملنے پر عمل میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
- نماز میں قبلہ کی اہمیت اس حدیث سے واضح ہوتی ہے۔
