صحیح بخاری حدیث ۴۰۴ - ظہر میں پانچ رکعت اور سجدہ سہو
ظہر میں پانچ رکعت ہو جائیں تو سجدہ سہو کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۴
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا ، فَقَالُوا : أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالُوا : صَلَّيْتَ خَمْسًا ، فَثَنَى رِجْلَيْهِ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ " .
عبداللہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بھولے سے) ظہر کی نماز (ایک مرتبہ) پانچ رکعت پڑھی۔ صحابہ نے پوچھا: کیا نماز کی رکعتیں زیادہ ہو گئی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخر بات کیا ہے؟“، صحابہ نے کہا کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر آپ نے اپنے پاؤں موڑ لیے اور (سہو کے) دو سجدے کیے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز میں بھول اور سجدہ سہو کا ایک واضح واقعہ بیان ہوا ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھا دی۔ صحابہ نے ادب سے پوچھا کہ کیا نماز کی رکعتیں بڑھا دی گئی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ انہوں نے بتایا کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور دو سجدے کیے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر نماز میں زیادتی بھول سے ہو جائے تو مسئلہ واضح ہونے پر سجدہ سہو کیا جاتا ہے۔ اس میں امام کو یاد دلانے اور نماز کی اصلاح کا طریقہ بھی ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں رکعت زیادہ ہو جائے تو سجدہ سہو کا حکم اس حدیث سے سمجھ آتا ہے۔
- مقتدی امام کو ادب کے ساتھ بھول یاد دلا سکتے ہیں۔
- بھول جانے سے نماز کے معاملے میں اصلاح کا راستہ بتایا گیا ہے۔
- دینی بات پوچھتے وقت صحابہ کا انداز ادب والا تھا۔
