صحیح بخاری حدیث ۱۲۳۲ - نماز میں رکعت بھول جائے تو سجدہ سہو
نماز میں رکعت بھولنے کی حدیث: سجدہ سہو کا آسان حکم
صحیح بخاری : ۱۲۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۳۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى ، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آ کر اس کی نماز میں شبہ پیدا کر دیتا ہے پھر اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں۔ تم میں سے جب کسی کو ایسا اتفاق ہو تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں بات بہت مختصر مگر نہایت واضح ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آ کر اس کی نماز میں شبہ پیدا کر دیتا ہے، یہاں تک کہ اسے معلوم نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں۔ پھر حکم دیا کہ جب کسی کو ایسا پیش آئے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔ اس حدیث سے نمازی کو یہ سمجھ آتی ہے کہ رکعت بھول جانا ایسی چیز ہے جس کی اصلاح شریعت نے بتا دی ہے۔ انسان کو اپنی طرف سے نیا طریقہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ نماز میں وسوسہ آئے تو توجہ واپس لانے کی کوشش کرے، اور اگر رکعتوں میں شک واقع ہو جائے تو سجدہ سہو کے حکم پر عمل کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شیطان نماز میں شبہ ڈال سکتا ہے۔
- رکعتوں کی گنتی بھول جائے تو سجدہ سہو کیا جائے۔
- حدیث میں دو سجدے بیٹھے بیٹھے کرنے کا ذکر ہے۔
