صحیح بخاری حدیث ۱۲۳۱ - تین یا چار رکعت کا شک اور سجدہ سہو
تین یا چار رکعت کا شک ہو تو سجدہ سہو کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۲۳۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۳۱
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتَوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الْأَذَانَ ، فَإِذَا قُضِيَ الْأَذَانُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ ، يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا وَكَذَا مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى ، فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے اذان ہوتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سنے، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو پھر آ جاتا ہے۔ جب اقامت ہوتی ہے تو پھر بھاگ پڑتا ہے۔ لیکن اقامت ختم ہوتے ہی پھر آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں بات یاد کرو، اس طرح اسے وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو اس کے ذہن میں نہیں تھیں۔ لیکن دوسری طرف نمازی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں اس نے پڑھی ہیں۔ اس لیے اگر کسی کو یہ یاد نہ رہے کہ تین رکعت پڑھیں یا چار تو بیٹھے ہی بیٹھے سہو کے دو سجدے کر لے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۳۱ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز میں شک اور وسوسے کے مسئلے کو براہ راست بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب اذان ہوتی ہے تو شیطان بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سنے، پھر اذان ختم ہونے پر واپس آتا ہے۔ اقامت کے وقت بھی بھاگتا ہے، اور اقامت ختم ہونے کے بعد نمازی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ فلاں فلاں بات یاد کرو، یہاں تک کہ نمازی کو یاد نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں۔ آخر میں صاف حکم آیا کہ اگر کسی کو یہ یاد نہ رہے کہ تین رکعت پڑھیں یا چار، تو بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرے۔ اس حدیث کا انداز نمازی کو آسانی دیتا ہے کہ شک کی حالت میں گھبراہٹ کے بجائے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں وسوسہ آنا ایک آزمائش ہو سکتی ہے۔
- تین یا چار رکعت کا شک ہو تو سجدہ سہو کا حکم آیا ہے۔
- اذان اور اقامت کے وقت شیطان کے بھاگنے کا ذکر حدیث میں ہے۔
