صحیح بخاری حدیث ۱۲۳۰ - قعدہ بھولنے کا بدل دو سجدے
قعدہ اولیٰ رہ جائے تو سجدہ سہو: صحیح بخاری کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۲۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۲۳۰
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الْأَسْدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فَكَبَّرَ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ " تَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي التَّكْبِيرِ .
عبداللہ بن بحینہ اسدی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز میں قعدہ اولیٰ کئے بغیر کھڑے ہو گئے۔ حالانکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھنا چاہئے تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے ہی سلام سے پہلے دو سجدے سہو کے کئے اور ہر سجدے میں «الله اكبر» کہا۔ مقتدیوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ دو سجدے کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھنا بھول گئے تھے، اس لیے یہ سجدے اسی کے بدلہ میں کئے تھے۔اس روایت کی مطابعت ابن جریج نے ابن شہاب سے تکبیر کے ذکر میں کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۲۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں قعدہ اولیٰ رہ جانے پر سجدہ سہو کا سبب بھی صاف بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ظہر کی نماز میں اس وقت کھڑے ہو گئے جب آپ صلى الله عليه وسلم کو بیٹھنا چاہیے تھا۔ جب نماز پوری ہوئی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کیے، ہر سجدے میں تکبیر کہی، اور مقتدیوں نے بھی آپ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ یہ سجدے کیے۔ روایت کے آخر میں صراحت ہے کہ یہ سجدے اس بیٹھنے کے بدلے میں کیے گئے جو بھول گیا تھا۔ اس سے مسئلہ بالکل آسان ہو جاتا ہے کہ یہاں بھول قعدہ اولیٰ کی تھی، اس لیے سجدہ سہو بھی اسی کی تلافی کے طور پر کیا گیا۔ حدیث میں امام اور مقتدی دونوں کے عمل کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قعدہ اولیٰ بھولنے کا بدل سجدہ سہو ہے۔
- ہر سجدے میں تکبیر کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
- مقتدی امام کے ساتھ سجدہ سہو میں شریک ہوئے۔
