صحیح بخاری حدیث ۴۰۵ - نماز میں قبلہ کی طرف تھوکنے کی ممانعت
نماز میں قبلہ کا ادب: قبلہ کی طرف نہ تھوکنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَامَ فَحَكَّهُ بِيَدِهِ ، فَقَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صَلَاتِهِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ أَوْ إِنَّ رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَلَا يَبْزُقَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ قِبْلَتِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ ، ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ ، ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ ، فَقَالَ : أَوْ يَفْعَلُ هَكَذَا " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف (دیوار پر) بلغم دیکھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرا اور یہ ناگواری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر دکھائی دینے لگی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور خود اپنے ہاتھ سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کرتا ہے، یا یوں فرمایا کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص (نماز میں اپنے) قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ البتہ بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی چادر کا کنارہ لیا، اس پر تھوکا پھر اس کو الٹ پلٹ کیا اور فرمایا، یا اس طرح کر لیا کرو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز، قبلہ کا ادب اور مسجد کی صفائی تینوں باتیں سامنے آتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف دیوار پر بلغم دیکھا تو یہ بات آپ کو ناگوار گزری۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے ہاتھ سے کھرچ دیا۔ پھر فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، اس لیے قبلہ کی طرف نہ تھوکے۔ حدیث میں بائیں طرف یا قدموں کے نیچے تھوکنے کا ذکر آیا، اور چادر کے کنارے میں تھوک کر اسے الٹ پلٹ کر لینے کا طریقہ بھی بتایا گیا۔ آج کے قاری کے لیے اصل پیغام یہ ہے کہ نماز میں سامنے کی سمت کا ادب رکھا جائے اور عبادت کی جگہ کو صاف رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں قبلہ کی طرف تھوکنا منع کیا گیا ہے۔
- مسجد یا نماز کی جگہ پر گندگی دیکھ کر اسے صاف کرنا اچھا عمل ہے۔
- نماز میں بندہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، اس لیے ادب ضروری ہے۔
- ضرورت ہو تو حدیث میں بائیں طرف یا قدموں کے نیچے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
