صحیح بخاری حدیث ۴۰۶ - نماز میں سامنے تھوکنے سے منع
نماز میں سامنے نہ تھوکنے کی حدیث اور قبلہ کا ادب
صحیح بخاری : ۴۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ فَحَكَّهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَبْصُقُ قِبَلَ وَجْهِهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے کی دیوار پر تھوک دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ ڈالا پھر (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز میں ہو تو اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے کیونکہ نماز میں منہ کے سامنے اللہ عزوجل ہوتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز کے ادب کو بہت صاف انداز میں بتایا گیا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی دیوار پر تھوک دیکھا، اسے کھرچ ڈالا، پھر لوگوں سے خطاب فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز میں ہو تو اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے، کیونکہ نماز میں منہ کے سامنے اللہ عزوجل ہوتا ہے۔ اس بیان کا مقصد نمازی کو یہ احساس دلانا ہے کہ نماز عام کھڑے ہونے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کے سامنے حاضر ہونے کا عمل ہے۔ اس لیے نماز کی جگہ، قبلہ کی سمت اور اپنے جسمانی عمل میں ادب ہونا چاہیے۔ یہ حدیث مسجد کی صفائی اور نماز کے احترام دونوں کو مضبوط کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں سامنے تھوکنے سے منع کیا گیا ہے۔
- قبلہ کی دیوار کو صاف کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- نماز میں اللہ کے سامنے حاضری کا احساس ہونا چاہیے۔
- مسجد کے آداب میں صفائی اور احترام شامل ہیں۔
