صحیح بخاری حدیث ۴۰۲۳ - سورۃ الطور سے دل میں ایمان کا اترنا
سورۃ الطور کی تلاوت اور دل میں ایمان کا اثر
صحیح بخاری : ۴۰۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۲۳
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ , وَذَلِكَ أَوَّلَ مَا وَقَرَ الْإِيمَانُ فِي قَلْبِي " .
´مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں محمد بن جبیر نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا، آپ مغرب کی نماز میں سورۃ والطور کی تلاوت کر رہے تھے، یہ پہلا موقع تھا جب میرے دل میں ایمان نے قرار پکڑا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۰۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ایمان اور قرآن کی تلاوت کا اثر ہے۔ حضرت جبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ الطور پڑھتے سنا۔ یہی وہ موقع تھا جب ان کے دل میں ایمان نے قرار پکڑا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تلاوت صرف الفاظ سننے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کا کلام دل پر اثر کرتا ہے۔ خاص طور پر نماز میں قرآن سننا دل کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس حدیث میں مغرب کی نماز، سورۃ الطور، ایمان کی کیفیت اور دل کی تبدیلی کا ذکر صاف طور پر موجود ہے۔ یہاں بات صرف اسی واقعے تک ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت سن کر ایمان دل میں مضبوط ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی تلاوت دل پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔
- نماز میں پڑھی جانے والی قراءت ایمان کو جگانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
- ایمان دل میں قرار پکڑتا ہے اور اس کا تعلق سننے، سمجھنے اور قبول کرنے سے ہے۔
