صحیح بخاری حدیث ۴۰۵۱ - بنو سلمہ، بنو حارثہ اور اللہ کی مدد
اللہ ولی ہے: بنو سلمہ اور بنو حارثہ کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۰۵۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۵۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا إِذْ هَمَّتْ طَائِفَتَانِ مِنْكُمْ أَنْ تَفْشَلا سورة آل عمران آية 122 بَنِي سَلِمَةَ , وَبَنِي حَارِثَةَ وَمَا أُحِبُّ أَنَّهَا لَمْ تَنْزِلْ وَاللَّهُ يَقُولُ : وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا سورة آل عمران آية 122 " .
جابر بن عبداللہ روایت:
یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی تھی «إذ همت طائفتان منكم أن تفشلا» (آل عمران: 122) یعنی بنی حارثہ اور بنی سلمہ کے بارے میں۔ میری خواہش نہیں ہے کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی، جب کہ اللہ آگے فرما رہا ہے «والله وليهما» ”اور اللہ ان دونوں جماعتوں کا مددگار تھا۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۰۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ ایک آیت کے بارے میں بتاتے ہیں کہ یہ ہمارے بارے میں نازل ہوئی، یعنی بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے بارے میں۔ آیت میں ذکر ہے کہ تم میں سے دو جماعتوں نے کمزوری کا ارادہ کیا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ پسند نہیں کہ یہ آیت نازل نہ ہوتی، کیونکہ اسی آیت میں اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا: «والله وليهما» یعنی اللہ ان دونوں کا مددگار تھا۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ کبھی انسان یا جماعت پر کمزوری کا لمحہ آ سکتا ہے، مگر اللہ کی مدد اور ولایت بہت بڑی نعمت ہے۔ لوگ اسے بنو سلمہ بنو حارثہ حدیث، اللہ ولی حدیث، اور غزوہ احد آیت 122 کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کمزوری کا خیال آ جانا ایک آزمائش ہو سکتا ہے۔
- اللہ کا مددگار ہونا بندے کے لیے سب سے بڑی ڈھارس ہے۔
- صحابہ آیات کو اپنے لیے اصلاح اور عزت دونوں سمجھتے تھے۔
- آیت کا پورا حصہ پڑھنے سے بات کا صحیح مطلب سمجھ آتا ہے۔
