صحیح بخاری حدیث ۴۰۶۷ - اطاعت رسول صلى الله عليه وسلم
غزوہ احد کے تیر انداز اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پکار
صحیح بخاری : ۴۰۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۶۷
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجَّالَةِ يَوْمَ أُحُدٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُبَيْرٍ، وَأَقْبَلُوا مُنْهَزِمِينَ، فَذَاكَ إِذْ يَدْعُوهُمُ الرَّسُولُ فِي أُخْرَاهُمْ.
براء بن عازب روایت:
غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تیر اندازوں کے) پیدل دستہ کا امیر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہما کو بنایا تھا لیکن وہ لوگ شکست خوردہ ہو کر آئے۔ (آیت «يدعوهم الرسول في أخراهم.» ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی) اور یہ ہزیمت اس وقت پیش آئی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو پیچھے سے پکار رہے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۰۶۷ کا خلاصہ
یہ حدیث غزوہ احد کے اس لمحے کی طرف اشارہ کرتی ہے جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے تیر اندازوں کے پیدل دستے کا امیر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا۔ پھر ایک وقت آیا کہ لوگ شکست کھا کر پلٹے، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم انہیں پیچھے سے پکار رہے تھے۔ حدیث میں آیت کے الفاظ کا بھی ذکر ہے کہ رسول انہیں پیچھے سے بلا رہے تھے۔ اس روایت کا اصل موضوع اطاعت رسول صلى الله عليه وسلم، نظم، اور مشکل وقت میں ثابت قدمی ہے۔ غزوہ احد کے تیر انداز، عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ، اور رسول اللہ کی پکار جیسے الفاظ اسی حدیث سے جڑتے ہیں۔ حدیث ہمیں لمبی تفصیل میں نہیں لے جاتی، بلکہ صرف اتنا دکھاتی ہے کہ جنگ کے شور میں نبی صلى الله عليه وسلم کی آواز موجود تھی۔ مومن کے لیے اصل کامیابی یہی ہے کہ گھبراہٹ میں بھی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ہدایت کو نہ بھولے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے دستے کا امیر مقرر کیا، اس سے نظم کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
- پسپائی کے وقت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پکار کو سننا اور ماننا اصل سبق ہے۔
- مشکل حالات میں گھبراہٹ انسان کو غلط سمت لے جا سکتی ہے۔
