صحیح بخاری حدیث ۴۰۶۸ - اونگھ اور سکینت

غزوہ احد میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ پر اونگھ کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۶۸

وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ فِيمَنْ تَغَشَّاهُ النُّعَاسُ يَوْمَ أُحُدٍ، حَتَّى سَقَطَ سَيْفِي مِنْ يَدِي مِرَارًا، يَسْقُطُ وَآخُذُهُ، وَيَسْقُطُ فَآخُذُهُ.

ابوطلحہ روایت:

میں ان لوگوں میں تھا جنہیں غزوہ احد کے موقع پر اونگھ نے آ گھیرا تھا اور اسی حالت میں میری تلوار کئی مرتبہ (ہاتھ سے چھوٹ کر بے اختیار) گر پڑی تھی۔ میں اسے اٹھا لیتا، پھر گر جاتی اور میں اسے پھر اٹھا لیتا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۰۶۸ کا خلاصہ

یہ حدیث غزوہ احد کے ایک عجیب اور انسانی پہلو کو بیان کرتی ہے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ ان لوگوں میں تھے جن پر احد کے دن اونگھ طاری ہوئی۔ حالت ایسی تھی کہ تلوار ہاتھ سے کئی بار گر پڑتی، وہ اسے اٹھاتے، پھر گر جاتی، پھر اٹھاتے۔ اس روایت میں کوئی لمبا حکم نہیں دیا گیا، مگر واقعہ خود بہت معنی رکھتا ہے۔ میدان جنگ، خطرہ، تھکن، اور پھر اونگھ؛ یہ سب بتاتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی انسان تھے، مگر دین کے کام میں موجود رہے۔ غزوہ احد میں اونگھ، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی تلوار، اور احد کی حدیث جیسے الفاظ اس روایت کے لیے اہم ہیں۔ حدیث ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ تاریخی روایات چھوٹی چھوٹی جزئیات بھی محفوظ رکھتی ہیں تاکہ ہم اس زمانے کی کیفیت کو بہتر سمجھ سکیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • احد کے دن کچھ صحابہ پر اونگھ طاری ہوئی، جیسا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔
  • صحابہ کی انسانی کیفیتیں بھی حدیث میں امانت کے ساتھ محفوظ ہیں۔
  • مشکل وقت کی تھکن کے باوجود وہ میدان میں موجود رہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں