صحیح بخاری حدیث ۴۰۶۹ - اختیار اللہ کا

ليس لك من الأمر شيء: دعا، فجر اور اللہ کا فیصلہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۰۶۹

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سَالِمٌ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ مِنَ الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَفُلاَنًا». بَعْدَ مَا يَقُولُ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ». فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ} إِلَى قَوْلِهِ: {فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ}.

عبداللہ بن عمر روایت:

´ہم سے یحییٰ بن عبداللہ سلمی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی آخری رکعت کے رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو یہ دعا کرتے ”اے اللہ! فلاں، فلاں اور فلاں (صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام) کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔“ یہ دعا آپ «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کے بعد کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ليس لك من الأمر شىء‏» سے «فإنهم ظالمون‏» (آل عمران: 128) تک نازل کی۔

صحیح بخاری حدیث ۴۰۶۹ کا خلاصہ

یہ حدیث فجر کی نماز، دعا، اور اللہ کے اختیار کے بارے میں ایک اہم بات بتاتی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فجر کی آخری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے، «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہتے، پھر چند افراد کے لیے بددعا کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی: «ليس لك من الأمر شيء» یعنی معاملہ آپ کے اختیار میں نہیں۔ حدیث کے الفاظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا بھی بندگی کے مقام سے تھی، اور آیت نے بتا دیا کہ اللہ جس کے ساتھ جو معاملہ کرے، وہ اسی کا حکم ہے۔ اس لیے اس حدیث کے اہم الفاظ قنوت نازلہ، فجر کی دعا، ليس لك من الأمر شيء، اور اللہ کا فیصلہ ہیں۔ اس روایت کو پڑھتے وقت ہمیں حدود کا خیال رکھنا چاہیے اور صرف وہی بات کہنا چاہیے جو متن میں آئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعا کرنا بندگی ہے، مگر آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔
  • یہ دعا فجر کی آخری رکعت کے رکوع کے بعد بیان ہوئی ہے۔
  • آیت نے واضح کیا کہ اللہ ہی بندوں کے معاملے کا فیصلہ فرماتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں