صحیح بخاری حدیث ۴۱۰۶ - خندق میں محنت اور دعا
خندق کی محنت میں سکینت کی دعا اور نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل
صحیح بخاری : ۴۱۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۰۶
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ , حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ , يُحَدِّثُ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ وَخَنْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُهُ يَنْقُلُ مِنْ تُرَابِ الْخَنْدَقِ حَتَّى وَارَى عَنِّي الْغُبَارُ جِلْدَةَ بَطْنِهِ , وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعَرِ فَسَمِعْتُهُ يَرْتَجِزُ بِكَلِمَاتِ ابْنِ رَوَاحَةَ وَهُوَ يَنْقُلُ مِنَ التُّرَابِ , يَقُولُ : " اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا , وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا , فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا , إِنَّ الْأُولَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا , وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا " , قَالَ : ثُمَّ يَمُدُّ صَوْتَهُ بِآخِرِهَا .
براء بن عازب روایت:
غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ خندق کھودتے ہوئے اس کے اندر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک کی کھال مٹی سے اٹ گئی تھی۔ آپ کے (سینے سے پیٹ تک) گھنے بالوں (کی ایک لکیر) تھی۔ میں نے خود سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار مٹی اٹھاتے ہوئے پڑھ رہے تھے۔”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس ہم پر تو اپنی طرف سے سکینت نازل فرما اور اگر ہمارا آمنا سامنا ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما۔ یہ لوگ ہمارے اوپر ظلم سے چڑھ آئے ہیں۔ جب یہ ہم سے کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں سنتے۔“ راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری کلمات کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اپنا دیکھا ہوا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ غزوہ احزاب کے دن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم خندق کے اندر سے مٹی اٹھا کر لا رہے تھے، یہاں تک کہ مٹی نے آپ صلى الله عليه وسلم کے پیٹ کی کھال کو ڈھانپ لیا۔ آپ صلى الله عليه وسلم ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے کلمات پڑھ رہے تھے جن میں اللہ سے ہدایت، نماز، صدقہ، سکینت اور ثابت قدمی کی دعا ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم صرف حکم دینے والے نہیں تھے، بلکہ صحابہ کے ساتھ خود محنت میں شریک تھے۔ غزوہ خندق، سکینت کی دعا، اور ثابت قدمی جیسے الفاظ اس روایت کے اصل پیغام سے جڑے ہیں: محنت، دعا اور اللہ پر اعتماد۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سخت کام میں صحابہ کے ساتھ عملی حصہ لیا۔
- ہدایت، نماز اور صدقہ کو اللہ کے فضل سے جوڑا گیا۔
- مشکل وقت میں سکینت اور ثابت قدمی کی دعا مانگی گئی۔
