صحیح بخاری حدیث ۴۱۰۵ - پروا ہوا سے نصرت
پروا ہوا سے نبی صلى الله عليه وسلم کی مدد: اللہ کی نصرت کا بیان
صحیح بخاری : ۴۱۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۰۵
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي الْحَكَمُ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پروا ہوا کے ذریعے میری مدد کی گئی اور قوم عاد پچھوا ہوا سے ہلاک کر دی گئی تھی۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۱۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بہت مختصر مگر واضح بات فرمائی کہ مجھے صبا یعنی پروا ہوا کے ذریعے مدد دی گئی، اور قوم عاد کو دبور یعنی پچھوا ہوا سے ہلاک کیا گیا۔ حدیث کا موضوع اللہ کی مدد ہے۔ یہاں کسی لمبی تفصیل کا ذکر نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اللہ اپنی مخلوق میں سے جس چیز کو چاہے مدد کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ غزوہ خندق کے باب میں یہ روایت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مدد ہمیشہ ظاہری اسباب سے ہی نہیں آتی؛ کبھی اللہ ہوا کو بھی ذریعہ بنا دیتا ہے۔ نصرت بالصبا حدیث، قوم عاد کی ہلاکت، اور صبا ہوا کا ذکر اسی مختصر نبوی بیان کے اہم الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو مدد یا عذاب کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی مدد کو اللہ کی طرف منسوب فرمایا۔
- قوم عاد کے ذکر سے اللہ کی قدرت کا احساس ہوتا ہے۔
