صحیح بخاری حدیث ۴۱۱۵ - احزاب کے خلاف دعا
اللهم منزل الكتاب: دشمن کے مقابلے میں نبی صلى الله عليه وسلم کی دعا
صحیح بخاری : ۴۱۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۱۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ , وَعَبْدَةُ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , يَقُولُ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ , فَقَالَ : " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ , اهْزِمْ الْأَحْزَابَ , اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ .
عبداللہ بن ابی اوفی روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب (افواج کفار) کے لیے (غزوہ خندق کے موقع پر) بددعا کی ”اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے! جلدی حساب لینے والے! کفار کے لشکر کو شکست دے۔ اے اللہ! انہیں شکست دے۔ یا اللہ! ان کی طاقت کو متزلزل کر دے۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۱۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں غزوہ خندق کے موقع پر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی دعا نقل ہوئی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے احزاب یعنی کفار کے لشکر کے خلاف دعا فرمائی: اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے، جلد حساب لینے والے، احزاب کو شکست دے، انہیں ہلا دے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ سخت مقابلے میں نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ ہی سے مدد مانگی۔ یہاں دعا کے الفاظ مختصر ہیں، مگر دل کو اللہ کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ احزاب کے خلاف دعا، اللهم منزل الكتاب، اور دشمن پر غلبہ کی دعا جیسے سرچ الفاظ اسی روایت سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس حدیث میں اصل پیغام یہ ہے کہ مشکل میں مدد، فتح اور دشمن کی کمزوری سب اللہ کے اختیار میں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے دشمن کے مقابلے میں اللہ سے دعا فرمائی۔
- دعا میں اللہ کو کتاب نازل کرنے والا اور جلد حساب لینے والا کہا گیا۔
- احزاب کی شکست اور ان کی طاقت کے ہلنے کی دعا کی گئی۔
