صحیح بخاری حدیث ۴۱۱۶ - واپسی پر تکبیر اور دعا
سفر سے واپسی کی دعا: تکبیر، توبہ اور شکر
صحیح بخاری : ۴۱۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۱۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ سَالِمٍ , وَنَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنَ الْغَزْوِ أَوِ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ يَبْدَأُ فَيُكَبِّرُ ثَلَاثَ مِرَارٍ , ثُمَّ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , آيِبُونَ تَائِبُونَ , عَابِدُونَ سَاجِدُونَ , لِرَبِّنَا حَامِدُونَ , صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ , وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوے، حج یا عمرے سے واپس آتے تو سب سے پہلے تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے۔ پھر یوں فرماتے ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے، حمد اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (یا اللہ!) ہم واپس ہو رہے ہیں توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی اور کفار کی فوجوں کو اس نے اکیلے شکست دے دی۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۱۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا سفر سے واپسی کا عمل بیان ہوا ہے۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم غزوے، حج یا عمرے سے واپس آتے تو پہلے تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے، پھر توحید، بادشاہت، حمد اور اللہ کی قدرت کا اقرار کرتے۔ پھر فرماتے کہ ہم واپس آ رہے ہیں، توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے، سجدہ کرتے ہوئے، اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے۔ اس کے بعد اللہ کے وعدے کے سچ ہونے، بندے کی مدد اور احزاب کی شکست کا ذکر فرماتے۔ سفر سے واپسی کی دعا، آیبون تائبون، اور حج عمرہ سے واپسی کا ذکر اس حدیث کے اہم سرچ موضوعات ہیں۔ روایت میں سفر کے بعد شکر، توبہ اور اللہ کی مدد کا اقرار جمع ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر سے واپسی پر تین بار تکبیر کہنا اس روایت میں آیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے واپسی پر توبہ، عبادت، سجدہ اور حمد کے الفاظ کہے۔
- فتح اور مدد کو اللہ کے وعدے اور نصرت سے جوڑا گیا۔
