صحیح بخاری حدیث ۴۱۲ - نماز میں سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکنا
نماز میں تھوکنے کے آداب: سامنے یا دائیں طرف نہیں
صحیح بخاری : ۴۱۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۲
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يَتْفِلَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ رِجْلِهِ " .
قتادہ روایت:
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم اپنے سامنے یا اپنی دائیں طرف نہ تھوکا کرو، البتہ بائیں طرف یا بائیں قدم کے نیچے تھوک سکتے ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۲ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز کے دوران جسمانی آداب کو سادہ لفظوں میں بیان کرتی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے سامنے یا اپنی دائیں طرف نہ تھوکے، بلکہ بائیں طرف یا بائیں قدم کے نیچے تھوک لے۔ حدیث میں مسجد کی دیوار کا واقعہ نہیں، بلکہ براہ راست حکم بیان ہوا ہے۔ اس لیے اس سے اصل بات یہ سمجھ آتی ہے کہ نماز کے وقت انسان کو اپنی سمتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ سامنے کی طرف اور دائیں طرف سے بچنے کا حکم ہے۔ نماز صرف الفاظ اور حرکات نہیں، اس میں ادب، صفائی اور احتیاط بھی شامل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں سامنے تھوکنے سے منع کیا گیا ہے۔
- دائیں طرف تھوکنا بھی منع ہے۔
- حدیث میں بائیں طرف یا بائیں قدم کے نیچے کی اجازت بیان ہوئی ہے۔
- نماز کے آداب میں صفائی اور احتیاط شامل ہیں۔
