صحیح بخاری حدیث ۴۱۳ - مومن نماز میں رب سے سرگوشی کرتا ہے

مومن کی نماز: رب سے سرگوشی اور ادب کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۳

حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ ، فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ " .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے سامنے یا دائیں طرف نہ تھوکے، ہاں بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۱۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ مومن جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وجہ سے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے منع فرمایا، اور بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے کا ذکر کیا۔ حدیث نماز کی اندرونی کیفیت بھی بتاتی ہے اور ظاہری ادب بھی۔ اندرونی کیفیت یہ ہے کہ نمازی اللہ سے بات کر رہا ہے۔ ظاہری ادب یہ ہے کہ سامنے کی سمت اور دائیں طرف کو تھوک سے بچایا جائے۔ یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ نماز میں بدن، زبان اور رویہ سب میں احترام ہونا چاہیے۔ نماز کا ادب صرف دل تک محدود نہیں رہتا، عمل میں بھی دکھائی دیتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں مومن اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔
  • اس احساس کے ساتھ سامنے تھوکنا مناسب نہیں۔
  • دائیں طرف تھوکنے سے بھی حدیث میں منع آیا ہے۔
  • نماز کا ادب دل اور عمل دونوں میں ہونا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں