صحیح بخاری حدیث ۴۱۲۱ - سعد بن معاذؓ کا حکم

سعد بن معاذؓ کا فیصلہ: بنو قریظہ کا معاملہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۲۱

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سَعْدٍ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ : نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ , فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ فَأَتَى عَلَى حِمَارٍ , فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ لِلْأَنْصَارِ : " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ " , فَقَالَ : " هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ " , فَقَالَ : تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِي ذَرَارِيَّهُمْ , قَالَ : " قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ " وَرُبَّمَا قَالَ : " بِحُكْمِ الْمَلِكِ " .

ابو سعید خدری روایت:

بنو قریظہ نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب اس جگہ کے قریب آئے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے لیے منتخب کر رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ اپنے سردار کے لینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا) اپنے سے بہتر شخص کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو قریظہ نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ جتنے لوگ ان میں جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے اللہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا یا یہ فرمایا کہ جیسے بادشاہ (یعنی اللہ) کا حکم تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۱۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں بنو قریظہ کے ہتھیار ڈالنے اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث ماننے کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انہیں بلایا۔ جب وہ قریب آئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے انصار سے فرمایا کہ اپنے سردار، یا اپنے بہتر شخص کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ پھر سعد رضی اللہ عنہ کو بتایا گیا کہ بنو قریظہ نے آپ کے حکم پر ہتھیار ڈالے ہیں۔ انہوں نے فیصلہ دیا کہ جنگ کے قابل افراد کو قتل کیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنایا جائے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا، یا بادشاہ کے حکم کے مطابق۔ اس حدیث کا موضوع فیصلہ، ثالثی اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا مقام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بنو قریظہ نے سعد بن معاذؓ کو ثالث مانا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے انصار کو سعدؓ کے احترام میں اٹھنے کا حکم دیا۔
  • سعدؓ کے فیصلے کو نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ کے حکم کے مطابق فرمایا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں