صحیح بخاری حدیث ۴۱۲۵ - نماز خوف اور غزوہ ذات الرقاع
نماز خوف کی حدیث: غزوہ ذات الرقاع کا ذکر
صحیح بخاری : ۴۱۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۲۵
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ , أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ فِي غَزْوَةِ السَّابِعَةِ غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَوْفَ بِذِي قَرَدٍ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز خوف ساتویں غزوہ میں پڑھی تھی۔ یعنی غزوہ ذات الرقاع میں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف ذو قرد میں پڑھی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نماز خوف ہے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی روایت میں آیا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ خوف کی حالت میں نماز ساتویں غزوہ، یعنی غزوہ ذات الرقاع میں پڑھی۔ اسی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول بھی آیا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے نماز خوف ذو قرد میں پڑھی۔ اس متن سے ہمیں اتنا ہی معلوم ہوتا ہے کہ خطرے اور غزوہ کی حالت میں بھی نماز کا اہتمام کیا گیا۔ یہاں نماز خوف کی حدیث، غزوہ ذات الرقاع، ذو قرد، اور نماز خوف کا طریقہ جیسے الفاظ صارفین کے لیے اہم ہیں، مگر اس روایت میں طریقہ تفصیل سے نہیں آیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خوف کی حالت میں بھی نماز کا اہتمام برقرار رہا۔
- روایت میں غزوہ ذات الرقاع اور ذو قرد دونوں کا ذکر آیا ہے۔
- اس حدیث میں نماز خوف کا مقام بتایا گیا ہے، مکمل طریقہ نہیں۔
