صحیح بخاری حدیث ۴۱۲۴ - غزوہ بنو قریظہ میں حق کا جواب
غزوہ بنو قریظہ میں حسان بن ثابت کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۱۲۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۲۴
وَزَادَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ , عَنْ الشَّيْبَانِيِّ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ .
براء بن عازب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ مشرکین کی ہجو کرو جبرائیل تمہاری مدد پر ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۲۴ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلی بات کی ایک خاص جگہ بھی بتائی گئی ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے غزوہ بنو قریظہ کے دن حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مشرکین کی ہجو کرو، جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع دینی دفاع ہے۔ یہاں غزوہ بنو قریظہ، حسان بن ثابت کی حدیث، اور مشرکین کا جواب جیسے سرچ الفاظ اہم ہیں۔ حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے حسانؓ کو ایک خاص موقع پر زبان کے ذریعے جواب دینے کی ہدایت دی۔ اس میں یہ بات بھی ہے کہ یہ کام رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم کے ساتھ تھا، اس لیے اسے عام طنز یا ذاتی حملہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حق کے دفاع کے لیے زبان بھی استعمال ہو سکتی ہے، جب مقصد دین کا جواب ہو۔
- یہ حکم غزوہ بنو قریظہ کے موقع سے جڑا ہوا بیان ہوا ہے۔
- حدیث میں جبرائیل علیہ السلام کی مدد کا ذکر حسانؓ کے لیے آیا ہے۔
