صحیح بخاری حدیث ۴۱۳۲ - نجد میں دشمن کے سامنے صف بندی
نجد کا غزوہ: دشمن کے سامنے نظم اور صف بندی
صحیح بخاری : ۴۱۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۳۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ , أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمٌ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَوَازَيْنَا الْعَدُوَّ , فَصَافَفْنَا لَهُمْ " .
ابن عمر روایت:
میں نجد کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کے لیے گیا تھا۔ وہاں ہم دشمن کے آمنے سامنے ہوئے اور ان کے مقابلے میں صف بندی کی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع غزوہ میں نظم ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کے لیے گئے۔ وہاں مسلمانوں کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا، پھر ان کے مقابلے میں صف بندی کی گئی۔ اس روایت میں نماز خوف کا طریقہ یا لڑائی کی تفصیل نہیں آئی، اس لیے اصل بات صرف یہی ہے کہ دشمن کے سامنے نظم کے ساتھ صفیں بنائی گئیں۔ نجد کا غزوہ، دشمن کے سامنے صف بندی، ابن عمر حدیث، اور غزوہ نجد حدیث جیسے الفاظ اس روایت کے لیے مناسب ہیں۔ یہ حدیث ہمیں متن کی حد میں رہ کر بتاتی ہے کہ مشکل وقت میں جماعتی نظم کو اہمیت دی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دشمن کے سامنے مسلمانوں نے صف بندی کی۔
- ابن عمرؓ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ میں شریک تھے۔
- اس روایت میں صرف آمنا سامنا اور صف بندی کا ذکر ہے۔
