صحیح بخاری حدیث ۴۱۴۴ - زبان سے جھوٹ پھیلانے کی تنبیہ
زبان سے جھوٹ پھیلانے کی حدیث: افواہ سے بچنے کا سبق
صحیح بخاری : ۴۱۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۴۴
حَدَّثَنِي يَحْيَى , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " كَانَتْ تَقْرَأُ إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ سورة النور آية 15 وَتَقُولُ الْوَلْقُ الْكَذِبُ . قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ : وَكَانَتْ أَعْلَمَ مِنْ غَيْرِهَا بِذَلِكَ لِأَنَّهُ نَزَلَ فِيهَا .
ابن ابی ملیکہ روایت:
عائشہ رضی اللہ عنہا (سورۃ النور کی آیت میں) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم» کرتی تھیں اور (اس کی تفسیر میں) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا سورۃ النور کی آیت «إذ تلقونه بألسنتكم» کی قرأت بیان کرتی ہیں اور فرماتی ہیں کہ «الولق» کا مطلب جھوٹ ہے۔ یہ بات اسی واقعے سے جڑی ہوئی ہے جس میں ان پر تہمت لگائی گئی تھی، اس لیے ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس آیت کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں۔ اس روایت کا مرکزی سبق زبان کی حفاظت ہے۔ انسان کبھی ایک بات کو صرف سن کر آگے کر دیتا ہے، مگر وہ بات جھوٹ بھی ہو سکتی ہے۔ قرآن کے الفاظ ہمیں بتاتے ہیں کہ جھوٹ زبانوں پر چلتا ہے تو نقصان بڑھتا ہے۔ اس لیے کسی کے بارے میں سنی سنائی بات کو سنبھال کر سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سنی سنائی بات کو فوراً آگے بڑھانا خطرناک ہو سکتا ہے۔
- جھوٹ کا تعلق صرف بولنے سے نہیں، اسے پھیلانے سے بھی ہے۔
- جس شخص پر واقعہ گزرا ہو، وہ اس کے مفہوم کو خاص طور پر سمجھتا ہے۔
- قرآنی الفاظ کے معنی سمجھنا عمل کی اصلاح میں مدد دیتا ہے۔
