صحیح بخاری حدیث ۴۱۴۵ - رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا دفاع کرنے والوں کی قدر

حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی حدیث: دفاعِ رسول صلى الله عليه وسلم کی قدر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۴۵

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدَةُ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ , فَقَالَتْ : لَا تَسُبَّهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَتْ عَائِشَةُ : اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ , قَالَ : " كَيْفَ بِنَسَبِي ؟ " قَالَ : لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ . حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ فَرْقَدٍ , سَمِعْتُ هِشَامًا , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَبَبْتُ حَسَّانَ وَكَانَ مِمَّنْ كَثَّرَ عَلَيْهَا .

´ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا کہنے لگا تو انہوں نے کہا کہ انہیں برا نہ کہو ‘ کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کفار کو جواب دیتے تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین قریش کی ہجو کہنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میرے نسب کا کیا ہو گا؟ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آپ کو ان سے اس طرح الگ کر لوں گا جیسے بال گندھے ہوئے آٹے سے کھینچ لیا جاتا ہے۔ اور محمد بن عقبہ (امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ) نے بیان کیا ‘ ہم سے عثمان بن فرقد نے بیان کیا ‘ کہا میں نے ہشام سے سنا ‘ انہوں نے اپنے والد سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا کیونکہ انہوں نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے میں بہت حصہ لیا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۱۴۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک نہایت نازک پہلو سامنے آتا ہے۔ عروہ رحمہ اللہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو برا کہنے لگے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے منع کیا۔ وجہ یہ بتائی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کفار کو جواب دیتے تھے۔ روایت میں یہ بھی ہے کہ حسان رضی اللہ عنہ نے مشرکین قریش کی ہجو کے لیے اجازت چاہی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نسب کا خیال رکھا۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ آپ کو ان سے ایسے الگ کر دیں گے جیسے آٹے سے بال نکالا جاتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی کی ایک غلطی دیکھ کر اس کی سابقہ دینی خدمت کو بھلا نہ دے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی مسلمان کی دینی خدمت کو یاد رکھنا انصاف کے قریب ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں زبان کا درست استعمال بھی خدمت ہے۔
  • کسی پر تنقید کرتے وقت پورا معاملہ دیکھنا چاہیے۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے ذاتی دکھ کے باوجود انصاف کی بات کی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں