صحیح بخاری حدیث ۴۱۵۲ - انگلیوں سے پانی پھوٹنا

انگلیوں سے پانی کا معجزہ: حدیبیہ کی ایمان افروز حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۵۲

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا , ثُمَّ أَقْبَلَ النَّاسُ نَحْوَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكُمْ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا فِي رَكْوَتِكَ , قَالَ : فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ , قَالَ : فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا , فَقُلْتُ لِجَابِرٍ : كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً .

جابر روایت:

غزوہ حدیبیہ کے موقع پر سارا ہی لشکر پیاسا ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھاگل تھا ‘ اس کے پانی سے آپ نے وضو کیا۔ پھر صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ صحابہ بولے کہ یا رسول اللہ! ہمارے پاس اب پانی نہیں رہا ‘ نہ وضو کرنے کے لیے اور نہ پینے کے لیے۔ سوا اس پانی کے جو آپ کے برتن میں موجود ہے۔بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھا اور پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے چشمے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر ابلنے لگا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ہم نے پانی پیا بھی اور وضو بھی کیا۔ (سالم کہتے ہیں کہ) میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ انہوں نے بتلایا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو بھی وہ پانی کافی ہو جاتا۔ ویسے اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۴۱۵۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ حدیبیہ کے دن پیاس کا حال بیان کرتے ہیں۔ لوگوں کے پاس پینے اور وضو کے لیے پانی نہیں تھا، صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برتن میں پانی موجود تھا۔ صحابہ نے اپنی ضرورت عرض کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھا۔ پھر پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی طرح ابلنے لگا۔ صحابہ نے اس پانی سے پیا بھی اور وضو بھی کیا۔ جابر رضی اللہ عنہ سے تعداد پوچھی گئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ پندرہ سو تھے، اور اگر ایک لاکھ بھی ہوتے تو پانی کافی ہو جاتا۔ اس حدیث کا موضوع معجزہ، پانی کی برکت اور صحابہ کی ضرورت کے وقت اللہ کی مدد ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیبیہ میں صحابہ کو پانی کی سخت ضرورت تھی۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی برکت سے پانی ابلنے لگا۔
  • صحابہ نے اسی پانی سے پیا اور وضو کیا۔
  • جابر رضی اللہ عنہ نے اس پانی کی کفایت کو بہت وسیع انداز میں بیان کیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں