صحیح بخاری حدیث ۴۱۵۹ - احرام میں تکلیف ہو تو فدیہ

احرام میں سر منڈوانے کا فدیہ: کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۵۹

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ أَبِي بِشْرٍ وَرْقَاءَ , عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى , عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ , فَقَالَ : " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ " , قَالَ : نَعَمْ , فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ لَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ , فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ , أَوْ يُهْدِيَ شَاةً , أَوْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ .

کعب بن عجرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے؟ وہ بولے کہ جی ہاں ‘ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دیا۔آپ اس وقت حدیبیہ میں تھے (عمرہ کے لیے احرام باندھے ہوئے) اور ان کو یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ وہ عمرہ سے روکے جائیں گے۔ حدیبیہ ہی میں ان کو احرام کھول دینا پڑے گا۔ بلکہ ان کی تو یہ آرزو تھی کہ مکہ میں کسی طرح داخل ہوا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل فرمایا (یعنی احرام کی حالت میں) سر منڈوانے وغیرہ پر ‘ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب کو حکم دیا کہ ایک فرق اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری کی قربانی کریں یا تین دن روزے رکھیں۔

صحیح بخاری حدیث ۴۱۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی ہیں۔ آپ نے پوچھا کہ کیا یہ تکلیف دیتی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دیا۔ یہ واقعہ حدیبیہ میں احرام کی حالت میں پیش آیا۔ اس کے بعد فدیہ کا حکم نازل ہوا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین اختیار بتائے: ایک فرق اناج چھ مسکینوں کو کھلانا، یا ایک بکری قربان کرنا، یا تین دن روزے رکھنا۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ شریعت میں تکلیف کی حالت کا لحاظ رکھا گیا ہے، مگر حکم کے ساتھ فدیہ بھی بیان کیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • احرام میں شدید تکلیف ہو تو مسئلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا۔
  • کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو سر منڈوانے کی اجازت دی گئی۔
  • فدیہ کے تین اختیار حدیث میں صاف بیان ہوئے ہیں۔
  • شرعی حکم میں تکلیف کا لحاظ بھی ہے اور فدیہ کی پابندی بھی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں