صحیح بخاری حدیث ۴۱۵۸ - قربانی کے جانور کی نشانی
ہدی اور احرام کی حدیث: حدیبیہ کے سفر کی تیاری
صحیح بخاری : ۴۱۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۵۸
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ مَرْوَانَ ، والْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ , قَالَا : " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ , فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ مِنْهَا " , لَا أُحْصِي كَمْ سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ حَتَّى سَمِعْتُهُ , يَقُولُ : لَا أَحْفَظُ مِنْ الزُّهْرِيِّ الْإِشْعَارَ وَالتَّقْلِيدَ , فَلَا أَدْرِي يَعْنِي مَوْضِعَ الْإِشْعَارِ وَالتَّقْلِيدِ , أَوِ الْحَدِيثَ كُلَّهُ .
مروان اور مسور بن مخرمہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اور ان پر نشان لگایا اور عمرہ کا احرام باندھا۔ میں نہیں شمار کر سکتا کہ میں نے یہ حدیث سفیان بن یسار سے کتنی دفعہ سنی اور ایک مرتبہ یہ بھی سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ مجھے زہری سے نشان لگانے اور قلادہ پہنانے کے متعلق یاد نہیں رہا۔ اس لیے میں نہیں جانتا ‘ اس سے ان کی مراد صرف نشان لگانے اور قلادہ پہنانے سے تھی یا پوری حدیث سے تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۵۸ کا خلاصہ
یہ روایت بھی حدیبیہ کے سفر کی تیاری بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً ایک ہزار سے کچھ زیادہ صحابہ کے ساتھ نکلے۔ ذوالحلیفہ پہنچ کر آپ نے قربانی کے جانور کو قلادہ پہنایا، اس پر نشان لگایا اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا۔ روایت میں راوی کی طرف سے یہ وضاحت بھی آتی ہے کہ اشعار اور تقلید کے الفاظ کے بارے میں انہیں مکمل یاد نہیں کہ یہ صرف اسی حصے سے متعلق ہے یا پوری حدیث سے۔ اس سے ایک علمی ادب بھی معلوم ہوتا ہے کہ راوی جس بات میں پختہ نہ ہو اسے صاف کہہ دیتا ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ عبادت کے سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی اور احرام کی تیاری کی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عبادت کے سفر میں تیاری کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- ہدی کو قلادہ پہنانا اور نشان لگانا روایت کے الفاظ میں موجود ہے۔
- ذوالحلیفہ سے عمرہ کا احرام باندھا گیا۔
- حدیث بیان کرتے وقت یادداشت کی حد بتانا علمی امانت ہے۔
