صحیح بخاری حدیث ۴۱۵۷ - حدیبیہ کے لیے احرام اور ہدی
حدیبیہ کے لیے احرام: ہدی، قلادہ اور ذوالحلیفہ کا ذکر
صحیح بخاری : ۴۱۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۵۷
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ مَرْوَانَ ، والْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ , قَالَا : " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ , فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ مِنْهَا " , لَا أُحْصِي كَمْ سَمِعْتُهُ مِنْ سُفْيَانَ حَتَّى سَمِعْتُهُ , يَقُولُ : لَا أَحْفَظُ مِنْ الزُّهْرِيِّ الْإِشْعَارَ وَالتَّقْلِيدَ , فَلَا أَدْرِي يَعْنِي مَوْضِعَ الْإِشْعَارِ وَالتَّقْلِيدِ , أَوِ الْحَدِيثَ كُلَّهُ .
خلیفہ مروان اور مسور بن مخرمہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کو ہار پہنایا اور ان پر نشان لگایا اور عمرہ کا احرام باندھا۔ میں نہیں شمار کر سکتا کہ میں نے یہ حدیث سفیان بن یسار سے کتنی دفعہ سنی اور ایک مرتبہ یہ بھی سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ مجھے زہری سے نشان لگانے اور قلادہ پہنانے کے متعلق یاد نہیں رہا۔ اس لیے میں نہیں جانتا ‘ اس سے ان کی مراد صرف نشان لگانے اور قلادہ پہنانے سے تھی یا پوری حدیث سے تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں مروان اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے حدیبیہ کے سفر کی ابتدا بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تقریباً ایک ہزار سے کچھ زیادہ صحابہ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب آپ ذوالحلیفہ پہنچے تو قربانی کے جانور کو قلادہ پہنایا، نشان لگایا اور وہیں سے عمرہ کا احرام باندھا۔ روایت کے آخر میں راوی کی احتیاط بھی ذکر ہے کہ انہیں اشعار اور تقلید کے الفاظ کے بارے میں یاد نہ رہا کہ مراد کس حد تک ہے۔ اس حدیث کا موضوع احرام، ہدی اور حدیبیہ کا سفر ہے۔ ہمیں یہاں سے یہی بات ملتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفرِ عمرہ کی تیاری واضح طریقے سے کی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیبیہ کے سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا احرام باندھا۔
- قربانی کے جانور کو قلادہ پہنایا گیا اور نشان لگایا گیا۔
- ذوالحلیفہ سے سفر کی عبادتی تیاری کا ذکر آیا ہے۔
- راوی نے اپنی یادداشت کے بارے میں علمی احتیاط بیان کی۔
