صحیح بخاری حدیث ۴۱۵۶ - صالح لوگوں کا اٹھ جانا
صالح لوگوں کے اٹھ جانے کی حدیث: نیکی کی قدر
صحیح بخاری : ۴۱۵۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۵۶
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا عِيسَى , عَنْ إِسْمَاعِيلَ , عَنْ قَيْسٍ أَنَّهُ , سَمِعَ مِرْدَاسًا الْأَسْلَمِيَّ , يَقُولُ , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ :" يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ , وَتَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِمْ شَيْئًا " .
مرداس اسلمی روایت:
پہلے صالحین قبض کئے جائیں گے۔ جو زیادہ صالح ہو گا اس کی روح سب سے پہلے اور جو اس کے بعد کے درجے کا ہو گا اس کی اس کے بعد پھر ردی اور بےکار کھجور اور جَو کی طرح بےکار لوگ باقی رہ جائیں گے جن کی اللہ کے نزدیک کوئی قدر نہیں ہو گی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ، جو اصحاب شجرہ میں سے تھے، بیان کرتے ہیں کہ پہلے صالحین قبض کیے جائیں گے؛ جو زیادہ صالح ہو گا وہ پہلے، پھر اس کے بعد درجے والا۔ اس کے بعد ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں ردی کھجور اور جَو کے باقی بچے ہوئے حصے سے تشبیہ دی گئی ہے، اور اللہ کے نزدیک ان کی کوئی قدر نہیں ہو گی۔ اس حدیث کا اصل موضوع صالح لوگوں کی قدر اور نیکی کی اہمیت ہے۔ روایت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ معاشرے میں نیک لوگوں کا موجود ہونا کتنی بڑی نعمت ہے۔ جب نیکی والے لوگ کم ہوتے جائیں تو باقی رہ جانے والوں کی حالت بھی کمزور ہو سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صالح لوگوں کا وجود معاشرے کے لیے نعمت ہے۔
- نیکی کے درجے اللہ کے نزدیک اہم ہیں۔
- حدیث میں کم قدر لوگوں کو ردی چیز سے تشبیہ دی گئی ہے۔
- انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ صالحین کے راستے پر رہے۔
